ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

نیب کو متنازعہ بنانے کی کوششیں! نیب نے کیا کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)سابق ڈی جی نیب شہزاد انور بھٹی نے کہا ہے کہ نیب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے،ملک سے بدعنوانی ختم کرنی ہے تو ہر طبقہ کے بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ایک انٹرویو میں سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب شہزاد انور بھٹی نے کہا کہ جو بھی کرپٹ آدمی پکڑا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے شور مچاتا ہے۔

ہمیں یہ یقین ہے کہ نیب کسی کی طرفداری نہیں کر رہی اور کارروائیوں میں شفافیت ہے۔ حکومت سیاستدان بھی نیب کے دائرے میں ہیں اور ان کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم میں کوئی ٹائم لائن نہیں ہوتی اور 30 دن میں مقدمات کی سماعت ممکن ہی نہیں ہے جبکہ گواہوں کی لمبی لمبی فہرست اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ مقدمات کو طوالت دی جائے اور اس کی وجہ سے ہی مقدمہ کمزور ہو جاتا ہے۔شہزاد انور بھٹی نے کہا کہ نیب کو اپنے کارروائیوں میں شفافیت رکھنی چاہیے، حکومت اور حزب اختلاف کے خلاف کارروائی ایک جیسے ہونی چاہیے تاہم اس وقت ہمیں کوئی جھول نظر نہیں آ رہا اور نیب اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدعنوانی میں ملوث رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کا فیصلہ ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ پروڈکشن آرڈرز کی وجہ سے تحقیقات ٹھیک طرح سے نہیں ہو سکتی۔سابق ڈی جی نیب نے کہا کہ پشاور نیب کی جانب سے حکومتی نمائندوں پر مقدمات بنے ہوئے ہیں جبکہ وفاق میں حکومت کو آئے ابھی تو ایک سال ہی ہوا ہے۔ حزب اختلاف کے افراد کئی سالوں سے حکومت کرتے رہے ہیں اور ان کی بدعنوانی کی فہرست لمبی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی کی گرفتاریوں کے حوالے سے بھی شور مچایا جا رہا ہے لیکن بدعنوانی روکنے کے لیے سب کی پکڑ دھکڑ ہونا ضروری ہے۔ سابق ڈی جی پارکس 20 ویں گریڈ کے افسر تھے لیکن ان کے گھر سے اربوں روپے مالیت کا سامان برآمد ہوا۔شہزاد انور بھٹی نے کہا کہ ٹیکس کا معاملہ نیب کا مسئلہ نہیں ہے۔ نیب صرف ایسے افراد پر ہاتھ ڈالتی ہے جو بدعنوانی میں ملوث ہوتے ہیں۔ حکومت نیب ترامیم کے ذریعے مختلف لوگوں کو بچانے کے چکر میں ہے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے نیب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…