اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

ماضی کا بوجھ مصیبت بن گیا، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا بڑا امتحان، صرف رواں مالی سال ہی کتنے ارب ڈالرز کا قرضہ واپس ادا کرنا ہو گا؟ انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 21  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو بڑے امتحان کا سامنا، ماضی کا بوجھ ان کے لیے مصیبت بن گیا، میڈیا ذرائع کے مطابق 26 مئی کو حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو انتہائی کم وقت میں بجٹ کی تیاری اور آئی ایم ایف سے معاہدے جیسے بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پانچ سالوں میں پاکستان کو تقریباً 50 ارب ڈالر کا قرضہ ادا کرنا ہوگا  اور صرف رواں مالی سال میں ساڑھے نو ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ ادا کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )سے قرضے کیلئے مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے اگلے مالی سال میں 600 ارب کے نئے ٹیکس لگانے پرآمادگی کا اظہار کر دیا ہے ہے،مشیرخزانہ اگلے بجٹ کے اسٹریٹیجی پیپر 30 اپریل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کریں گے تاکہ آئی ایم ایف کے مذاکرات کو ٹریک پر رکھا جاسکے۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے عالمی ادارے کو ٹیکس آمدن 1.7 فیصد بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے،اس میں600 ارب کے نئے ٹیکس جی ڈی پی کا 1.4 فیصد ہونگے باقی 0.3 فیصد ٹیکس انتظامی معاملات کو بہتر بنا کر اکٹھے کیے جائیں گے۔یوں حکومت کو دفاعی بجٹ میں کمی کی ضرورت نہیں پڑیگی اور بجٹ کا بنیادی خسارہ بھی پورا ہوجائیگا۔آئی ایم ایف نے نئے پروگرام کیلئے دفاعی اور ترقیاتی بجٹ میں کمی اور محاصل سے حاصل ہونے والی آمدن بڑانے کی شرائط رکھی ہیں۔حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں پہلے ہی کمی کردی ہے ،جہاں تک دفاعی بجٹ کا معاملہ ہے اسے محاصل کے ذریعے آمدنی بڑھا کر پورا کیا جائیگا۔مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے گزشتہ روز آئی ایم ایف کے مشن ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا جہاد آزرو اورعالمی ادارے کے پاکستان میں ڈائریکٹر ارنسٹو رمیریز ریگو سے رابطے کرکے نئے قرضہ پر بات کیلئے مذاکرات کو آگے بڑھانے پرزور دیا۔ان رابطوں میں آئی ایم ایف مشن کے اس ماہ کے آخر میں دورہ پاکستان پر اتفاق کیا گیا۔پاکستان نے پہلے عالمی ادارے کو ٹیکس آمدن جی ڈی پی کے 1.1 فیصد یا 470 ارب بڑھانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اب پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت جی ڈی پی کا 1.7 فیصد یا 730 ارب روپے تک بڑھانے کو تیار ہے۔لیکن حکومت کیلیے لوگوں کی کم ہوتی آمدنی اور بڑھتے افراط زرکی وجہ سے ایک سال کیلئے 600 ارب روپے تک ٹیکس لگانا آسان رہے گا۔آئی ایم ایف کو پاکستان کے گلے سڑے ٹیکس نظام کی وجہ سے انتظامی ذرائع سے ٹیکسوں کے ذریعے آمدنی بڑھانے کی یقین دہانی پر اعتماد نہیں۔آئی ایم ایف پاکستان کی ٹیکس آمدنی جی ڈی پی کے 13.2 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کررہاہے لیکن حکومت پاکستان نے 12.7 فیصد تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…