جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری ،پیپلزپارٹی نے تین نکاتی حکمت عملی مرتب کرلی ،گرفتاری کی صورت میں کیا، کیاجائے گا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی نے منی لانڈرنگ کیس میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں حکمت عملی مرتب کرنا شروع کر دی ہے ۔ تین نکاتی حکمت عملی کے تحت پیپلزپارٹی پارلیمنٹ ،انفرادی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک گیر سطح پر احتجاج کریگی ۔ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنا شروع کردی ہے ۔

اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے ۔اگر منی لانڈرنگ کیس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے آصف زرداری کو گرفتار کرتے ہیں تو پارٹی کی جانب سے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی ، سینیٹ اور سندھ اسمبلی میں بھرپور انداز میں احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا ۔ دوسرے آپشن میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں احتجاج ریلیوں اور دھرنوں کا سلسلہ شرو ع کر سکتی ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام صوبائی اور ضلعی تنظیمی عہدیداران کو تیار رہنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری پر پیپلز پارٹی احتجاجی مظاہروں کو ملک بھر میں وسیع کرنے کے لیے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطے کرے گی ۔ اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے ۔ یہ رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) ، جمعیت علمائے (ف) ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں سے رابطہ کرکے انہیں اس بات پر قائل کریں گے کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری ملک میں جمہوری قوتوں کو کمزور کرنے کی سازش ہے اور ان کی گرفتاری کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس حوالے 31 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی بات چیت کی جائے گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد تیسرے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے کرے گی

اور اسلام آباد میں دھرنے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ اہم رہنما پارٹی قیادت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو دانستہ دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پارٹی کی قیادت کو سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس صورت حال میں اسمبلیوں میں احتجاج ریکارڈ کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ اس لیے احتجاجا قومی اسمبلی سے استعفوں کا آپشن بھی سامنے رکھا جائے گا ۔ تاہم پارٹی کے اکثریتی رہنما اس تجویز کے مخالف ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…