جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیرنے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر تنازعے کا ایساانوکھا حل ڈھونڈ نکالاکہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

datetime 14  جولائی  2017 |

لاہور( این این آئی )سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیرنے کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سپریم کورٹ نہیں کہ جس کی رپورٹ پر کوئی اعتراض نہ کیا جا سکتا ہو ،اگر فیصلے سٹرکوں پر ہونے ہیں تو پھر انصاف کے اداروں کا مقصد ختم ہو جاتا ہے ۔لاہورہائیکورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتی بیلف بھی ہائیکورٹ کا پابند ہوتا ہے،جے آئی ٹی سپریم کورٹ نہیں کہ جس کی رپورٹ پر کوئی اعتراض نہ کیا جا سکتا ہو ۔

۔انہوں نے کہا کہ جب پولیس تفتیش دوبارہ ہو سکتی ہے تو جے آئی ٹی تفتیش دوبارہ کیو ں نہیں ہو سکتی ۔جب وکیل کسی بھی مسئلے پر دلائل دیتے ہیں تو ہر پہلو سامنے آجاتا ہے۔ایک سوال پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اگر کام میڈیا نے کرنا ہے تو سپریم کورٹ کو بند کردیں، اگر فیصلے سٹرکوں پر ہونے ہیں تو پھر انصاف کے اداروں کا مقصد ختم ہو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک پارٹی ہاتھ کھول کر نوچے اور دوسری ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…