اسلام آباد (نیوز ڈیسک): پنجاب حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کے خواہشمند شہریوں کے لیے سہولیات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے لرنر لائسنس کے اجرا اور ریگولر لائسنس کی تجدید کا نظام پہلے سے زیادہ آسان بنا دیا ہے۔
پی آئی ٹی بی کے تحت صوبے بھر میں قائم 15 ای خدمت مراکز پر اب شہری آسانی سے لرنر ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ درخواست کی منظوری کے بعد لرنر لائسنس فوری طور پر جاری کیا جاتا ہے، جو چھ ماہ تک قابلِ استعمال رہتا ہے۔
ای خدمت مراکز روزانہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ شہری مزید معلومات کے لیے 1317 ہیلپ لائن یا متعلقہ ویب پورٹل سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے ریگولر ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کا عمل بھی مکمل طور پر آن لائن کر دیا ہے۔ اب شہری دستک (Dastak) ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے درخواست جمع کرا سکتے ہیں، مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کر سکتے ہیں، سرکاری فیس ادا کر سکتے ہیں اور اپنے لائسنس کی پراسیسنگ اور ڈیلیوری کی صورتحال بھی آن لائن ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
تجدید کے لیے درکار دستاویزات
لائسنس کی تجدید کے لیے درخواست گزار کو درج ذیل دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی:
حالیہ پاسپورٹ سائز تصویر
شناختی کارڈ کی دونوں جانب کی واضح کاپی
پرانے ڈرائیونگ لائسنس کی فرنٹ اور بیک تصویر
50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے سرکاری ڈاکٹر سے تصدیق شدہ میڈیکل سرٹیفکیٹ
فعال موبائل نمبر اور ای میل ایڈریس
دستک ایپ کے ذریعے درخواست دینے کا طریقہ
سب سے پہلے گوگل پلے اسٹور یا ایپل ایپ اسٹور سے Dastak App انسٹال کریں اور شناختی کارڈ، موبائل نمبر اور دیگر ضروری معلومات کے ذریعے اکاؤنٹ بنائیں۔
لاگ اِن کے بعد Driving License Services میں جا کر Regular Driving License Renewal کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد لائسنس نمبر، شناختی کارڈ نمبر، تاریخ پیدائش اور لائسنس کی کیٹیگری درست درج کریں اور مطلوبہ تصاویر و دستاویزات اپ لوڈ کریں۔
درخواست مکمل ہونے پر سسٹم PSID نمبر جاری کرے گا، جس کے ذریعے موبائل بینکنگ، انٹرنیٹ بینکنگ یا اے ٹی ایم سے فیس جمع کرائی جا سکتی ہے۔ ادائیگی کے بعد درخواست کو Final Submit کرنا ضروری ہوگا، جس کے بعد درخواست گزار دستک ایپ یا DLIMS کے ذریعے اپنے کیس کی پیش رفت آن لائن چیک کر سکتا ہے۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات
محکمہ ٹریفک پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ لائسنس کی معیاد ختم ہونے سے پہلے تجدید کی درخواست جمع کرائیں، کیونکہ تاخیر کی صورت میں جرمانہ خودکار طور پر فیس میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس کی شرح تاخیر کے عرصے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق درخواستوں میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں دھندلی تصاویر اپ لوڈ کرنا، شناختی کارڈ یا لائسنس نمبر غلط درج کرنا، فیس ادا کرنے کے باوجود درخواست کو فائنل سبمٹ نہ کرنا، اور 50 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود میڈیکل سرٹیفکیٹ منسلک نہ کرنا شامل ہیں۔



















































