منگل‬‮ ، 27 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق ریفرنسز ،فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف الیکشن کمیشن سردار رضا محمد خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق ریفرنسز کا فیصلہ 15 دسمبر کو سنایا جائے گا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کروا دیاجس میں تمام الزامات کو مسترد کرتے ہو ئے کہا ہے کہ

بنی گالہ میں گھر کا 2002 میں 4 کروڑ 35 لاکھ میں خریداری کا معاہدہ کیا اور رقم اقساط میں ادا کرنے کا طے ہوا ۔الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی ٗاس

موقع پر (ن) لیگی رہنما محمد خان ڈاہا کے وکیل نے کہاکہ جہانگیر ترین کے کاغذات نامزدگی اور ایف بی آر میں زرعی آمدن کی تفصیلات میں تضاد ہے، ایف بی آر میں جمع کرایا گیا ریکارڈ منگوایا جائے، جس پر چیف الیکشن کمشنرنے استفسار کیا کہ آپ نے اسپیکر کے پاس ریفرنس دائر کرتے وقت ریکارڈ کیوں نہیں لگایا،

بغیر ریکارڈ ریفرنس کیسے دائر کر دیا گیا ٗ رکن الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ اسپیکر نے بغیر ریکارڈ دیکھے کیسے ریفرنس آگے بھیجا۔جہانگیر ترین کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ زرعی آمدنی سے متعلق الزام دو سال پرانا اور بے بنیاد ہے ٗ الزام کو ایف بی آر کا ان لینڈ ریونیو ٹربیونل پہلے ہی مسترد کرچکا ہے، ان سائیڈ

ٹریڈنگ کے الزامات ضمنی انتخاب سے سات سال قبل کے ہیں، ریفرنس سیاسی وجوہات پر دائر کیا گیا لہذا زبانی درخواست پر آرٹیکل 63 اے کیسے لاگو کیا جاسکتا ہے، اسپیکر نے ضابطہ سے ہٹ کر اپنے اختیارات استعمال کیے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کمیشن میں جواب جمع کروا دیا، جس میں تمام الزامات کو

مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنی گالہ میں گھر کا 2002 میں 4 کروڑ 35 لاکھ میں خریداری کا معاہدہ کیا اور رقم اقساط میں ادا کرنے کا طے ہوا جبکہ ابتدائی طور پر 65 لاکھ روپے ادا کیے گئے اور بقایا رقم لندن کا فلیٹ بیچ کر ادا کرنا تھی

تاہم لندن فلیٹ کی فروخت میں تاخیر سے معاہدہ ختم ہونے کا خدشہ تھا جس پر جمائمہ خان نے بنی گالہ گھر کیلئے ادھار رقم دی، لندن فلیٹ کی فروخت سے حاصل رقم سے جمائمہ خان کو قرض ادا کیا جب کہ بنی گالہ گھر کیلئے جمائمہ خان نے رقم قانونی طریقے سے پاکستان منتقل کی۔عمران خان کا جواب میں کہنا تھا کہ

اسپیکر کے ریفرنس میں لگائے گئے ٹیکس چوری اور آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے سے متعلق الزامات بھی بے بنیاد ہیں، نیازی سروسز لمیٹڈ کا واحد اثاثہ لندن فلیٹ تھا جو 2003 میں بیچ دیا، بعد ازاں نیازی سروسز لمیٹڈ کا وجود صرف کاغذوں کی حد تک ہے لہذا آف شور کمپنی میں میرا کوئی شیئر نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…