منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق نے واقعے کی تفصیلات بیان کردیں

datetime 9  جون‬‮  2026 |

کوئٹہ (این این آئی)کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی نوجوان ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکے جانے کے افسوسناک واقعہ میں

ان کی جان بچانے والے نوجوان عبدالرزاق نے حالیہ انٹرویو میں واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاہے کہ اپنی ناک کے معائنے کے لیے کچھ دیر کے لیے آرتھوپیڈک وارڈ گیا ہوا تھا، اسی دوران مجھے ایک خاتون کی چیخیں سنائی دیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ڈاکٹر ماہ نور پر ایک عملے کے رکن نے تیزاب پھینک دیا تھاجس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں جبکہ ان کی ایک آنکھ بھی متاثر ہوئی، اس دوران عبدالرزاق ترکئی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ڈاکٹر ماہ نور کو مزید نقصان سے بچایا، انہیں ڈھانپ کر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ خود بھی جھلس گئے تھے۔ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد عبدالرزاق کے گھر کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرزاق نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جو مجھ سے ملنے آئے، میری اصل ڈیوٹی میڈیسن وارڈ میں تھی لیکن میں اپنی ناک کے معائنے کے لیے کچھ دیر کے لیے آرتھوپیڈک وارڈ گیا ہوا تھا، اسی دوران مجھے ایک خاتون کی چیخیں سنائی دیں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون بری طرح زخمی تھی، ان کا چہرہ جھلس چکا تھا، کپڑے جل چکے تھے اور وہ خون میں لت پت تھیں، ان کے پاس مناسب کپڑے بھی نہیں تھے، اس لیے میں نے اپنے کپڑوں سے انہیں ڈھانپا، شدید تکلیف کے باعث وہ مجھ سے لپٹ گئیں جس کے نتیجے میں میں بھی تیزاب سے متاثر ہوا اور زخمی ہو گیا۔

عبدالرزاق کے مطابق ڈاکٹروں نے میرے ہاتھ کے شدید متاثر ہونے کے باعث سرجری تجویز کی، اگر انہیں بچاتے ہوئے میری جان بھی چلی جاتی تو مجھے کوئی خوف نہ ہوتا، اس وقت میرے ذہن میں صرف انسانیت تھی اور میں صرف انہیں بچانا چاہتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ میں پرائیویٹ امیدوار کے طور پر انٹرمیڈیٹ کے دوسرے سال کا طالب علم ہوں اور جزوقتی ملازمت کرتا ہوں، میری خواہش ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں اور ایک اچھی ملازمت حاصل کروں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…