جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آف شور کمپنی اورپاناما لیکس،ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔۔۔! جہانگیرترین کے وکیل کے عدالت میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے آف شورکمپنیوں سے متعلق تحقیقات کیلئے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جواب داخل کرانے کیلئے 2 ہفتوں کی مہلت دیدی ہے۔چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے مسلم لیگ (ن )کے رہنما حنیف عباسی کی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔دونوں فریقین کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی

جسے عدالت نے منظور کر لیا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس درخواست کو پاناما لیکس سے متعلق دیگر درخواستوں کے ساتھ یکجا کر کے لارجر بنچ میں سماعت کی جائے۔نجی ٹی وی کے مطابق دوسری جانب جہانگیر ترین نے اپنے وکیل سکندر بشیر کے توسط سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا ، وکیل نے جواب میں بتایا کہ جہانگیر ترین کی اپنی کوئی آف شور کمپنی نہیں نہ پاناما لیکس میں نام آیا ، ان کے بچوں کی آف شور کمپنی ہے اور ٹیکس ریٹرن میں اسکا ذکر کیا جاتا ہے ۔

جہانگیر ترین نے جواب میں کہا کہ ان کے خلاف درخواست ردعمل میں دائر کی گئی ، کبھی کوئی ٹیکس چوری نہیں کیا ، ٹیکس سے متعلق ٹرائل کورٹ ان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے ، ان کے خلاف لگے الزامات بے بنیاد ہیں، درخواست خارج کی جائے ۔ عدالت نے کہا کہ عمران خان کے جواب کی روح کی روشنی میں کیس کو لارجر بینچ میں سننے کا فیصلہ کریں گے ۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی ۔حنیف عباسی نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالت نے عمران خان کو تلاشی دینے کیلئے کہا مگر انہوں نے عدالت کو تلاشی دینے سے انکار کر دیا ہے ۔مسلم لیگی رہنما نے کہاکہ عدالت کا کہناتھاکہ آف شور کمپنیوں کی صورت میں کیس پاناما کیس کے ساتھ ملا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں قوم کے سامنے عمران خان کی مالی کرپشن ثابت کرکے رہوں گا،پی ٹی آئی سربراہ ٹیکس چوری اور دیگر بدعنوانیوں میں ملوث رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…