جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

آف شور کمپنی اورپاناما لیکس،ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔۔۔! جہانگیرترین کے وکیل کے عدالت میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے آف شورکمپنیوں سے متعلق تحقیقات کیلئے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جواب داخل کرانے کیلئے 2 ہفتوں کی مہلت دیدی ہے۔چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے مسلم لیگ (ن )کے رہنما حنیف عباسی کی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔دونوں فریقین کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی

جسے عدالت نے منظور کر لیا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس درخواست کو پاناما لیکس سے متعلق دیگر درخواستوں کے ساتھ یکجا کر کے لارجر بنچ میں سماعت کی جائے۔نجی ٹی وی کے مطابق دوسری جانب جہانگیر ترین نے اپنے وکیل سکندر بشیر کے توسط سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا ، وکیل نے جواب میں بتایا کہ جہانگیر ترین کی اپنی کوئی آف شور کمپنی نہیں نہ پاناما لیکس میں نام آیا ، ان کے بچوں کی آف شور کمپنی ہے اور ٹیکس ریٹرن میں اسکا ذکر کیا جاتا ہے ۔

جہانگیر ترین نے جواب میں کہا کہ ان کے خلاف درخواست ردعمل میں دائر کی گئی ، کبھی کوئی ٹیکس چوری نہیں کیا ، ٹیکس سے متعلق ٹرائل کورٹ ان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے ، ان کے خلاف لگے الزامات بے بنیاد ہیں، درخواست خارج کی جائے ۔ عدالت نے کہا کہ عمران خان کے جواب کی روح کی روشنی میں کیس کو لارجر بینچ میں سننے کا فیصلہ کریں گے ۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی ۔حنیف عباسی نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالت نے عمران خان کو تلاشی دینے کیلئے کہا مگر انہوں نے عدالت کو تلاشی دینے سے انکار کر دیا ہے ۔مسلم لیگی رہنما نے کہاکہ عدالت کا کہناتھاکہ آف شور کمپنیوں کی صورت میں کیس پاناما کیس کے ساتھ ملا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں قوم کے سامنے عمران خان کی مالی کرپشن ثابت کرکے رہوں گا،پی ٹی آئی سربراہ ٹیکس چوری اور دیگر بدعنوانیوں میں ملوث رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…