جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

4727سکولوں کی حالت انتہائی خراب، حکومت نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ اسمبلی میں آواز بلند

datetime 29  اگست‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی ) پاکستان مسلم لیگ (ق)کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی نے پنجاب کے4727سکولوں کی خطرناک عمارتوں کی مرمت میں تاخیر پر پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک التوائے کار جمع کروادی ۔اپنی تحریک التوائے کار جمع کروانے کے بعد انہوں نے صحافوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے خطرناک قرار دی گئی سکولوں کی عمارتیں معصوم بچوں کی جانوں کیلئے خطرہ کا باعث بن چکی ہیں حالیہ بارشوں سے پنجاب بھر کے 4727سکولوں کی خطرناک اور بوسیدہ عمارتیں مستقبل کے معماروں معصوم بچوں کی زندگیوں کے لیے ہر وقت ان پر لٹکتی ہوئی تلوار کی مانند ہیں ہزاروں سکولز کی بوسیدہ اور غیر مرمت شدہ عمارتیں کسی بھی وقت بڑے حادث کا باعث بن سکتی ہیں جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجتے ہوئے گھبراتے ہیں ۔ خدیجہ فاروقی نے کہا کہ پنجاب بھر کے سکولوں کی خطرناک قرار دی گئی عمارتیں جن میں 3868جزوی طور پر خطرناک اور859مکمل طور پر خطرناک ہیں جبکہ لاہور کی کل127سکول کی عمارتیں خطرناک قرار دی جاچکی ہیں ان میں سے107جزوی اور 20کے قریب مکمل خطرے کی علامت قرار دی جاچکی ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف تو ترقیاتی کاموں میٹروٹرین پر اربوں خرچ کررہی ہے جبکہ دوسری طرف تعلیم کے شعبہ کو بالکل نذرانداز کردیا گیا ہے ۔بیشتر سکولوں میں تعمیرو مرمت کا کام تین سال سے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکا ہوا ہے جس کے باعث بوسیدہ اور خطرناک سکول کی عمارتیں بچوں کے لیے خطرے کا باعث بن چکی ہیں اور اساتذہ بھی ان سکولوں میں پڑھاتے ہوئے خوف کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت فی الفور سکولز کے شعبہ کی طرف متوجہ ہوں اور بچوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے سکولوں کی عمارتوں کی مرمت و تعمیر فنڈز مہیا کرے ۔اور جب تک ان خطرناک عمارتوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل نہیں ہوتا ان سکولوں کو دیگر سکولوں میں منتقل کیا جائے تاکہ قیمتی جانوں کے نقصان سے بچاجاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…