منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

راناءثناءاللہ کی دوبارہ تقرری،عوامی تحریک نے لائحہ عمل کا اعلان کردیا

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

،انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی ہمارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن قاتل اس قدر حواس باختہ ہیں کہ ڈھنگ سے جے آئی ٹی کی کاغذی کارروائی بھی مکمل نہ کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق چیمہ نے قاتلوں کے سہولت کار کا کردار ادا کیا وہ بتائیں کہ انہوں نے شہداءکے خون کی کیا قیمت وصول کی؟انہوں نے کہا کہ جب جے آئی ٹی کی نام نہاد کارروائی مکمل نہیں ہوئی تو عبدالرزاق چیمہ نے رانا ثناءاللہ کی طرف سے رپورٹ کے مکمل ہونے اور بے گناہ ہونے کے اعلان کی تردید کیوں نہیں کی اور یہ وضاحت کیوں نہیں کی کہ تاحال کارروائی جاری ہے؟انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی حکومت کی دم چھلا ہے ، ہم اس پوری جے آئی ٹی اور اس کی نام نہاد کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت اور اسے مسترد کرتے ہیں۔اس موقع پر سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مقدمہ کے مدعی جواد حامد نے کہا کہ جب سے شریف برادران برسراقتدار آئے ہیں انسانیت اور انصاف کا خون ہورہا ہے ۔شریف برادران جے آئی ٹی رپورٹ کی طرز پر اتفاق فاﺅنڈری کیسز میں بھی بری ہوئے ۔انصاف کی گنگا صرف جاتی عمرہ کے سبزہ زاروں کی طرف بہہ رہی ہے؟ عوامی تحریک کا احتجاج انصاف کا رخ مظلوموں کی طرف پھیرے گا، امیر اور غریب کا امتیاز ختم کرے گا۔ مظاہرہ میں جے آئی ٹی کے سربراہ کی طرف سے 30 مئی کو گواہان طلب کیے جانے کے حوالے سے سرکاری مراسلہ کی کاپیاں بھی صحافیوں میں تقسیم کی گئیں۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ اپنے شہداءکے خون کا حساب اور انصاف لینے کیلئے احتجاج جاری رکھیں گے اور انصاف کیلئے ہر دروازے پر دستک دینگے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام سفارتخانوں ،انسانی حقوق کی تنظیموں، یورپی یونین کو پنجاب کے حکمرانوں کی طرف سے ماڈل ٹاﺅن میں ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کے دلخراش واقعات کے خلاف احتجاجی مراسلے لکھ رہے ہیں ۔مراسلے کے ساتھ پولیس کے مظالم کے واقعات پر مشتمل سی ڈیز بھی ارسال کرینگے جس کی کوریج قومی ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…