جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعظم صاحب!آپ کے بہنوئی کو پلاٹ کا قبضہ اب تک نہیں ملا، انصار عباسی ، احد خان سے ہونیوالی گفتگو سامنے لے آئے، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کو شاید معلوم نہیں کہ لاہور میں ان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ انہیں نہیں ملا۔ بھلا ہو ایک اور عدالتی حکم امتناع کا۔عمران خان نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی بھرپور کوششوں کے باوجود

وہ قبضہ مافیا سے اپنے بہنوئی کا پلاٹ خالی نہیں کرا سکے یہی وجہ تھی کہ موجودہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو مقرر کیا گیا تھا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دو سال سے پنجاب حکومت سے کہہ رہے ہیں لیکن پلاٹ پر قبضہ مافیا کا غیر قانونی قبضہ خالی نہیں کرا سکے۔وزیراعظم کو علم ہے کہ جس پلاٹ کی وہ بات کہہ رہے ہیں وہ ان کے بہنوئی مسٹر عبدالاحد خان کو تازہ ترین عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے نہیں مل سکا۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق احد خان نے بتایا کہ ان کے والد نے پی آئی اے سوسائٹی میں یہ پلاٹ 1984 میں خریدا تھا لیکن 2008 میں ان کے انتقال کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ پلاٹ پر قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا ہے اور مختلف عدالتوں سے اپنے حق میں حکم امتناع لے لیا ہے۔ یہ وہ رجحان ہے جو قبضہ مافیا معمول کی کارروائی بن چکا ہے اور اس سے ملک کے تمام حصوں میں لاکھوں پاکستانی متاثر ہو رہے ہیں۔احد خان کہتے ہیں کہ برسوں کی مقدمہ بازی کی وجہ سے وہ رواں سال حکم

امتناع ختم کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس، ہائوسنگ سوسائٹی انتظامیہ اور ایل ڈی اے نے قبضہ ختم کرا دیا لیکن دو دن بعد ہی انہیں ایک اور حکم امتناع ملا جو قبضہ مافیا کے حق میں تھا اور یہ کسی اور عدالت کا جاری کردہ تھا۔انہوں نے کہا کہ اب قانونی مالک

ہونے کے باوجود وہ پلاٹ استعمال کر سکتے ہیں او رنہ ہی فروخت کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ سوسائٹی اور قبضہ گروپ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں جبکہ ریونیو ڈپارٹمنٹ بھی جڑوں تک کرپٹ ہے۔پولیس بھی کارروائی سے گریزاں

تھی لیکن وزیراعظم کی مداخلت کی وجہ سے اور گزشتہ عدالتی حکم امتناع کے ختم ہونے کی وجہ سے پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔احد خان نے کہا کہ پلاٹ کا قبضہ ملنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر چار دیواری تعمیر کرا دی لیکن دو دن بعد ہی انہیں پتہ چلا کہ سول کورٹ نے قبضہ

مافیا کے حق میں ایک اور اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے۔ریونیو ڈپارٹمنٹ کی کرپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زمین کی انتقال (میوٹیشن) سوسائٹی اور قبضہ مافیا کے نام پر ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال اگست میں زمین کی میوٹیشن قبضہ مافیا کے نام سے ہٹا دی گئی جس کے

بعد ان کے پلاٹ سے متصل پلاٹ کے مالک کو قبضہ مافیا نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جب وزیراعظم کو مافیا کے ہاتھوں ہونے والے اس قتل کے متعلق بتایا گیا۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ متاثرہ فریقین کو قبضہ مافیا والے دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن پولیس کچھ نہیں کر رہی۔اس پر عمران خان

نے موجودہ سی سی پی او لاہور کو لانے کا فیصلہ کیا جنہوں نے قاتلوں کو گرفتار کیا۔احد خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ تمام تر مقدمات جیتنے کے باوجود اور اسٹے آرڈر ختم کرانے کے باوجود وہ اپنا پلاٹ استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے فروخت کر سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…