جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

ترسیلات زر میں غیر متوقع اور ریکارڈ اضافہ ورلڈ بینک نے پاکستان کو 24ارب ڈالرز کی خوشخبری سنا دی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ سال 2020 کے دوران پاکستان میں ترسیلات زر 9 فیصد بڑھ کر 24 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مائیگریشن اینڈ ڈیولپمنٹ بریف کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ

کورونا وائرس کے منفی اثرات نے عالمی معیشت کو سست کردیا ہے جس کے اثر کو سفری پابندیوں کی وجہ سے رقم لے جانے میں پیش آنے والی مشکلات اور زرِ مبادلہ کی منتقلی میں مراعات دئیے جانے سے رسمی اور غیر رسمی چینلز سے ترسیلات زر میں اضافے نے کچھ حد تک کم کردیا ہے۔ہجرت کی آنکھ سے کووڈ 19 کے دوسرے مرحلے کا بحران کے عنوان سے رپورٹ میں مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جولائی 2020 میں ٹیکس مراعات متعارف کروائیں اور پیسے نکالنے یا بینکنگ انسٹرومنٹس یا مقامی بینک اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی کو ود ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ حالانکہ سال 2020 کی تیسری سہ ماہی میں 200 ڈالر بھیجنے کے لیے جنوبی ایشیا سب سے سستا خطہ ہے جبکہ کچھ راستوں جاپان، جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور پاکستان سے افغانستان بھیجنے پر 10 فیصد تک لاگت آتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں ترسیلات زر میں سال 2020 کے دوران 4 فیصد کمی اور سال 2021 میں 11 فیصد کمی

کا امکان ہے۔جنوبی ایشیائی خطے میں ترسیلات زر میں اس کمی کا اندازہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث طویل معاشی سست روی سے لگایا گیا ہے۔ہجرت کے رجحان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی وبا کے بحران نے جنوبی ایشیا میں داخلی اور بین الاقوامی ہجرت کو

متاثر کیا ہے بالخصوص خلیجی ممالک سے بڑی تعداد میں غیر ملکی تارکین وطن اپنے ممالک مثلاً بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش پہنچے جبکہ کچھ کو ان کی حکومتوں نے نکالا۔اس کے علاوہ خطے سے مہاجرین کی باہر منتقلی نے بھی منفی اثرات مرتب کیے اور پاکستان میں جنوری تا

ستمبر 2020 تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ 79 ہزار 487 رہ گئی تھی جبکہ سال 2019 میں یہ تعداد 6 لاکھ 25 ہزار 203 تھی۔رپورٹ کے مطابق کووِڈ 19 کی وبا اور معاشی بحران مسلسل جاری رہے گا اور تارکین وطن کو رقوم اپنے ملک بھیجتے ہیں اس میں سال 2019 کے

مقابلے 2021 میں 14 فیصد تک کمی آنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں ترسیلات زر 7 فیصد کم ہو کر 50 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہنے کا امکان ہے جس کے بعد 2021 میں اس میں 7.5 فیصد کی مزید کمی ہو کر 47 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…