عاصم سلیم باجوہ فیملی کی دستاویزات ایس ای سی پی سے چوری کرنے میں کون کون شخص ملوث نکلا؟نام سامنے آگئے ، تہلکہ خیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 17 ستمبر‬‮ 2020  |  13:04

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)ایس ای سی پی سے عاصم سلیم باجوہ فیملی کی دستاویزات چوری کرنے والے بے نقاب ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے میں ایس ای سی پی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر مارکیٹ سرویلنس ارسلان ظفر ملوث تھے۔جنہیں جبری رخصت پر بھیج کر ان کا لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیا گیا، انکوائری میں دستاویزات چوری کرنے والوں میں دوسرا کردار کمشنر شوکت حسین ہیں، ظفر حجازی اور شوکت حسین سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے قریبی ہیں۔اس سلسلے میں معروف صحافی ارشد شریف نے مزید بتایا کہ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اندرونی تحقیقات کیں جن


میں ایک میڈیا گروپ کے چند صحافیوں اور کچھ بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسران سے گٹھ جوڑ سامنے آیا، ارسلان ظفر کو نادرا ریکارڈ تک بھی رسائی تھی، جنہوں نے نادرا ریکارڈ سے باجوہ فیملی کے نام اور شناختی کارڈ نمبرز چوری کیے اور ان کی مدد سے بعد میں کمپنیوں کی تفصیلات ایس ای سی پی سے نکالی گئیں، صحافی فخر درانی نے دستاویزات کیلئے ایس ای سی پی میں درخواست دی، جبکہ فخر عمارہ نامی خاتون نے فیس ادائیگی کے بعد دستاویزات وصول کیں،21جولائی کو ایس ای سی پی ریکارڈ سے کمپنیوں کے نام ارسلان ظفر نے نکالے۔جبکہ 25جولائی کو سابق بھارتی فوجی میجر گورونے باجوہ فیملی کی کمپنیوں پر وی لاگ کیا۔ارشد شریف کے مطابق ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کا تعلق ان کی انٹیلی جنس سے بتایا جاتا ہے، جبکہ اس معاملے میں کچھ ایسے افسران بھی ملوث ہیں جن کی مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستگی باقاعدہثابت شدہ ہے۔ان کی طرف سے جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ فیملی کے شناختی کارڈ نمبرز اور حساس معلومات حاصل کی گئیں، ان افسران میں ارسلان ظفر قابل فہرست ہیں جو کہ ن لیگ میں ایس ای سی پی کے چیئرمین ظفر حجازی کے صاحبزادے ہیں،جن پر ریکارڈ ٹمپرنگ کے الزامات بھیسامنے آئے جن پر انہیں جیل جانا پڑا۔اس سے پہلے عاصم سلیم باجوہ نے واضح کیا کہ ہر چیز پر پراپیگنڈہ افسوس ناک، میری چئیرمین سی پیک اتھارٹی تعیناتی پر 50لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا الزام لگایا گیا، گزشتہ دس ماہ میں ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا، اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کےجواب میں تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں، ہر فورم پر دینے کیلئے تیار ہوں، ہر لحاظ سے تسلی کرنے اور ٹیکس ماہرین و وکلا سے مشاورت کے بعد تردیدی بیان جاری کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عاصم سلیم باجوہ نے کہاکہ عمران خان کی ہدایت پر معاونین خصوصی کےاثاثہ جات ڈکلئیر گئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز پر پراپیگنڈہ شروع ہو جانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ میری سی پیک اتھارٹی میں تعیناتی پر بھی گمراہ کن پراپیگنڈہ مہم چلائی گئی کہ مجھے 50لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واضح کیا کہ چئیرمین سی پیک اتھارٹیکے عہدے پر دس ماہ سے کام کر رہا ہوں آج تک ایک پیسہ بھی تنخواہ وصول نہیں کی۔ میری تنخواہ اور مراعات ایم پی1 سکیل کے مطابق فکس کی گئی تھیں جس کی بشمول الائونسز زیادہ سے زیادہ حد 7لاکھ 99ہزار روپے ہے۔ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ میرے خلاف جھوٹی خبر میں کہا گیاکہ میں ایوان صدر میں 2002میں تعینات ہوا تو ساتھ ہی کاروبار شروع ہوگیا یہ سراسر غلط ہے۔ ایوان صدر میں میری پوسٹنگ 2003کے وسط میں ہوئی۔ میرے بھائیوں نے امریکہ میں 2002کے وسط میں کاروبار شروع کیا۔ وہ 1991میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے گئے تھےاور اس وقت سے لے کر ابتک تقریبا 29سال سے وہاں پر رہائش پذیر ہیں، میرے تین بھائیوں نے محنت کرکے کاروبار کو یہاں تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ میرے بھائیوں کے سو سے زائد سٹورز کی بات ہو رہی ہے، امریکہ میں ایک ایسا پاکستانی بھی موجود ہے جس کے 1200سٹورز ہیں۔امریکہ جیسے ملک میں جہاں سسٹم ٹھیک ہے اگر کوئی محنت کرتا ہے تو اسے اس کا صلہ بھی ملتا ہے اور وہ ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70ملین ڈالر کا کاروبار کا دعوی کرنے والے اس کی تفصیل بھی ضرور دیکھیں اس میں سے 60ملین ڈالر بینکوں سے قرض حاصل کیا گیا ہے۔50سے زائد سرمایہ کاروں کا امریکی گروپ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ سرمایہ کاری میں بھائیوں اور فیملی کا حصہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرنے میں 4سے پانچ روز کا وقت اس لئے لگایا کہ ہر لحاظ سے تسلی کر لی جائے اور معلوماتاکٹھی کی جائیں۔ پاکستان اور امریکہ سے ہر چیز کا ڈیٹا منگوا کر اور ٹیکس ایڈوائز سے مشورہ کر کے اور وکیل کو دکھا کر یہ تمام اعدادوشمار جاری کئے گئے ہیں۔ ہر چیز کی مکمل منی ٹریل موجود ہے، دستاویز ی ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک حد تک ہی معلومات پبلک کی جا سکتی ہیں۔ میں نے آج تک کوئی سیاسی بیان نہیں دیا نہ ہی سیاست سے میرا تعلق ہے۔ جس فورم پر بھی پوچھا جائے گا میں ریکارڈ پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎