صورتحال مشکل تھی ،مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا،پی ٹی آئی حکومت کی معاشی ٹیم نے ہاتھ کھڑے کردئیے ، مستقبل سے متعلق خطرناک پیشگوئی

  جمعرات‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2019  |  16:28

کراچی (این این آئی) گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے آئندہ برسوں میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ شکایات آرہی ہیں بینک ایکسچینج ریٹ میں اضافی وصولی کر رہے ہیں، بینکوں کا اقدام غلط ہے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہماری صورتحال مشکل تھی اور ڈیفالٹ بھی ممکن تھا، ہم نے معیشت کے لیے مشکل فیصلے کیے اور اب صورت حال دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر رضا باقر نے بتایا کہ 2015 تک تجارتی خسارہ صفر تھا اور ہمارے


زرمبادلہ ذخائر اچھی سطح پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2016 سے تجارتی خسارہ بڑھنا شروع ہوا، ایکس چینج ریٹ ایڈجسٹ نہ ہونے سے زرمبادلہ ذخائر کم ہونا شروع ہوئے۔انہوںنے کہا کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ماہانہ 2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، ایکسچینج ریٹ تبدیلی کے بعد ماہانہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ نصف رہ گیا، ایکسچینج ریٹ نہ روکا جاتا تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا۔ رضا باقر نے کہا کہ آج روپے کی قدر مارکیٹ طے کر رہی ہے جس سے تمام قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں۔انہوںنے کہا کہ رواں سال جون میں زرمبادلہ کے ذخائر 7 ارب 20 کروڑ ڈالر ہو گئے، حکومت کے اخراجات اور خرچ میں بھی توازن نہیں رہا اور ہماری ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بھی کافی کم ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ دوست ملکوں نے ہاتھ کھینچا تو آئی ایم ایف آخری آپشن تھا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف قرض سے زیادہ سگنلز طاقتور ہوتے ہیں، آئی ایم ایف کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ قرض واپس بھی ہو گا۔ ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ ہمارا نظام فری فلوٹ نہیں کہ مرکزی بینک مداخلت نہ کر سکے لیکن ہمارا مستقبل روشن ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس اور بجلی کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، مہنگائی کم کرنے کے لیے شرح سود بڑھانا پڑی۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ڈیڑھ سے دو سال میں مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد پر آ جائے گی۔رضا باقر نے کہا کہ ہم نظام کو ڈیجیٹل کر رہے ہیں، یہ آسان اور ڈکیومینٹڈ ہیں، موبائل سے ادائیگی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے پیسہ بھجوانے سے لوگوں کو مشکلات ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ شکایات آرہی ہیں بینک ایکسچینج ریٹ میں اضافی وصولی کر رہے ہیں، بینکوں کا اقدام غلط ہے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیونگز اکانٹ، نیشنل سیونگز میں رقم پر سہولت دینے کا منصوبہ ہے، عوام تحمل کامظاہرہ کرے، کرنٹ اکانٹ خسارہ کم اور ریونیو بڑھ رہا ہے۔

موضوعات:

loading...