لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی سی) کے جج اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا افغانستان میں ہونے والے واقعات کے بارے میں جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کی جائیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وہ افغانستان کے متاثرہ افراد کی تحریری درخواستوں کی چھان بین کرنا شروع کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ممکنہ تحقیقات کس نکتے پر مرکوز کی جائیں۔2017 میں آئی سی سی کے افسر استغاثہ فاتو بینسودا نے کہا تھا کہ اس بات کی ’قابلِ قدر بنیاد موجود ہے‘ کہ جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔
اس جرائم کے پیچھے ممکنہ طور پر طالبان، سی آئی اے اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں جو درخواستیں عدالت میں پیش کی گئی ہیں ان میں جنرل عبدالرشید دوستم کا نام بھی شامل ہے۔وہ افغانستان کے حالیہ نائب صدر ہیں اور ان پر ایک عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ وہ اس وقت خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے ترکی میں مقیم ہیں۔ ان پر 2016 کے اواخر میں سیاسی حریف احمد ایشچی نے الزام لگایا تھا کہ انھیں دوستم کے حکم پر زد و کوب کیا گیا اور ان کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔بعض دوسرے افغانوں کو امید ہے کہ آئی سی سی ملک میں سرگرمِ عمل شدت پسند تنظیموں پر قابو پانے میں مدد کر سکے گی۔آئی سی سی کی جانب سے اس مجوزہ تفتیش میں مئی 2003 کے بعد کے واقعات کا جائزہ لیا جانا ہے۔ مارچ 2003 کے بعد سے اگر افغانستان میں کوئی بھی مبینہ جرم ہوا ہے، چاہے وہ کسی غیر ملکی نے ہی کیا ہو، اس تفتیش میں شامل ہو سکے گا۔اس کا مطلب ہے کہ گوانتانامو بے منتقل کیے جانے سے قبل بگرام حراستی مرکز میں قیدیوں کے مبینہ تشدد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا سکیں گے۔ابتدائی طور پر یہ حراستی مرکز امریکیوں نے تعمیر کیا تھا اور وہ ہی اسے چلاتے تھے، تاہم بعد میں اس کا انتظامی کنٹرول افغان حکام کو دے دیا گیا۔گوتانامو بے کے چند موجودہ اور سابق قیدیوں کے لیے فلاحی تنظیم ریپریو انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں درخواستیں جمع کروا رہی ہے۔



















































