ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عالمی عدالتِ انصاف کا افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا اعلان، اہم افغان سیاسی شخصیات ،فوج اور سی آئی اے بھی زد میں آگئی

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی سی) کے جج اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا افغانستان میں ہونے والے واقعات کے بارے میں جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کی جائیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وہ افغانستان کے متاثرہ افراد کی تحریری درخواستوں کی چھان بین کرنا شروع کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ممکنہ تحقیقات کس نکتے پر مرکوز کی جائیں۔2017 میں آئی سی سی کے افسر استغاثہ فاتو بینسودا نے کہا تھا کہ اس بات کی ’قابلِ قدر بنیاد موجود ہے‘ کہ جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔

اس جرائم کے پیچھے ممکنہ طور پر طالبان، سی آئی اے اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں جو درخواستیں عدالت میں پیش کی گئی ہیں ان میں جنرل عبدالرشید دوستم کا نام بھی شامل ہے۔وہ افغانستان کے حالیہ نائب صدر ہیں اور ان پر ایک عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ وہ اس وقت خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے ترکی میں مقیم ہیں۔ ان پر 2016 کے اواخر میں سیاسی حریف احمد ایشچی نے الزام لگایا تھا کہ انھیں دوستم کے حکم پر زد و کوب کیا گیا اور ان کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔بعض دوسرے افغانوں کو امید ہے کہ آئی سی سی ملک میں سرگرمِ عمل شدت پسند تنظیموں پر قابو پانے میں مدد کر سکے گی۔آئی سی سی کی جانب سے اس مجوزہ تفتیش میں مئی 2003 کے بعد کے واقعات کا جائزہ لیا جانا ہے۔ مارچ 2003 کے بعد سے اگر افغانستان میں کوئی بھی مبینہ جرم ہوا ہے، چاہے وہ کسی غیر ملکی نے ہی کیا ہو، اس تفتیش میں شامل ہو سکے گا۔اس کا مطلب ہے کہ گوانتانامو بے منتقل کیے جانے سے قبل بگرام حراستی مرکز میں قیدیوں کے مبینہ تشدد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا سکیں گے۔ابتدائی طور پر یہ حراستی مرکز امریکیوں نے تعمیر کیا تھا اور وہ ہی اسے چلاتے تھے، تاہم بعد میں اس کا انتظامی کنٹرول افغان حکام کو دے دیا گیا۔گوتانامو بے کے چند موجودہ اور سابق قیدیوں کے لیے فلاحی تنظیم ریپریو انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں درخواستیں جمع کروا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…