اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) فنانس ایکٹ 2026 کے نفاذ کے ساتھ ہی بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر نئی خصوصی ایکسائز ڈیوٹی کا اطلاق شروع کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد عام درآمدی گاڑیوں کو کچھ ریلیف ملنے جبکہ مہنگی لگژری گاڑیوں اور بڑی ایس یو ویز کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یکم جولائی 2026 سے نئی ٹیکس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ ایس آر او 1072(I)/2026 کے تحت خصوصی ایکسائز ڈیوٹی کسٹمز کلیئرنس کے وقت اسی طریقہ کار کے مطابق وصول کی جائے گی جس طرح دیگر کسٹمز ڈیوٹیز وصول کی جاتی ہیں۔حکومت کی ٹیرف ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت متعدد مسافر گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے،
جس سے بعض درآمدی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کی توقع ہے۔ خاص طور پر بیرونِ ملک سے مکمل تیار حالت میں درآمد کی جانے والی وہ الیکٹرک کاریں اور الیکٹرک ایس یو ویز جن کی مالیت 75 ہزار امریکی ڈالر تک ہو، انہیں نئی خصوصی ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جس کے باعث ان گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔اس کے برعکس مہنگی اور بڑی انجن صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ 75 ہزار سے 110 ہزار امریکی ڈالر مالیت کی درآمدی الیکٹرک کاروں اور ایس یو ویز پر 30 فیصد خصوصی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جبکہ 110 ہزار امریکی ڈالر سے زائد مالیت والی الیکٹرک گاڑیوں پر یہ شرح بڑھا کر 40 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔اسی طرح 2000 سے 3000 سی سی انجن والی درآمدی کاروں، ایس یو ویز، اسٹیشن ویگنز، ڈبل کیبن پک اپس اور ریسنگ گاڑیوں پر 86 فیصد خصوصی ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہوگی، جبکہ 3000 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں پر یہ شرح بڑھا کر 92 فیصد کر دی گئی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ بجٹ میں بعض درآمدی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی کم کی گئی ہے، تاہم لگژری اور بڑی گاڑیوں پر عائد نئی خصوصی ایکسائز ڈیوٹی اس رعایت کے اثرات کو بڑی حد تک ختم کر دے گی، جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے تک اضافہ متوقع ہے۔



















































