جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

امریکہ نے ایک بار پھر یوٹرن لے لیا‘ پاکستان کیخلاف بڑا مطالبہ سامنے آگیا

datetime 13  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے پاکستان کو دی جانے والی ہر طرح کی امداد کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دیدی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دہشتگردی کیخلاف پاکستان دوست یا دشمن کے موضوع پر کانگریس کی اہم سمجھی جانے والی خارجہ معاملات کی سب کمیٹی کی سماعت کے دوران پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید ہوئی اور انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے گئے ۔سب کمیٹی کے سربرا میٹ سلمون نے کہاکہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ اگر پاکستان اب بھی شدت پسند گروہوں کی حمایت کرنے کی پالیسی تبدیل نہیں کرتا تو پاکستان کو دی جانے والی امداد پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ سب کمیٹی کے سوالوں کا جواب دینے کیلئے سابق سفارت کار زلمے خلیل زاد، امریکی یونیورسٹی کی پروفیسر ٹرسیا بیکن اور لانگ وار جرنل کے سینئر ایڈیٹر بل رجیو کانگریس میں پیش ہوئے۔زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغانستان میں جاری جنگ کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی پالیسی ہے۔
تینوں کی رائے تھی کہ پاکستان اب بھی ’گڈ اور بیڈ طالبان‘ کی پالیسی پر گامزن ہے اور امریکہ سے کیے گئے وعدوں کے باوجود ان گروہوں کو نشانہ نہیں بنا رہا جو بھارت اور افغانستان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں یا امریکی فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں ان گروہوں میں خاص طور پر حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ، جیش محمد اور افغان طالبان کا ذکر کیا گیا۔دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان ندیم ہوتیانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کو شکست دینے کے اپنے مشترکہ مقصد میں طویل وقت کے شراکت دار اور دوست ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعاون کو دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اکتوبر 2015 میں امریکی صدر براک اوباما اور وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کیا تھا ?دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور ہر طرح کی انتہا پسندی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے عزم کو دوہرایا۔
پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان ندیم ہوتیانہ نے کہا کہ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین نے پاکستان کے حالیہ دورے اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتائج دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ وہ یہاں ہونے والی پیش رفت سے متاثر ہوئے سماعت سے دو ہفتے پہلے خارجہ معاملات کی ہی ایک اور سب کمیٹی کے سربرا ٹیڈ پو نے ایک امریکی اخبار میں کالم لکھ کر پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی اس کے جواب میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے انھیں خط لکھ کر کہا تھا کہ پاکستان نے گذشتہ دو برسوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں حقانی نیٹ ورک سمیت کئی گروہوں کو نشانہ بنایا انہوں نے کہاکہ کارروائی میں 3500 شدت پسند مارے گئے جن میں سے 900 لشکر اسلام سے تعلق رکھتے تھے اور وہ امریکی فوج کی رسد اور دوسری سپلائی پر حملہ کرتے تھے۔جلیل عباس جیلانی نے بتایا کہ پاکستانی خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے اور وہ ان کارروائیوں میں اپنے 500 فوجیوں کی جانیں قربان کر چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…