جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

عدالتی حکم پر اگر ورلڈ بنک فنڈنگ روک دے تو پھر داسو ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ کون دیگا‘چیف جسٹس

datetime 11  جولائی  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے پاور چائنہ کنسٹرکشن کمپنی کی داسو ڈیم کے تعمیراتی ٹھیکے کی بولی روکنے کے معاملے پر حکم امتناعی کی درخواست مسترد کردی جبکہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے دوران سماعت ریمارکس دئیے ہیں کہ منصوبے کیلئے ورلڈ بنک سرمایہ فراہم کررہا ہے ‘کیا ورلڈ بنک کی شرائط سے باہر جایا جاسکتا ہے‘عدالتی حکم پر اگر ورلڈ بنک فنڈنگ روک دے تو پھر داسو ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ کون دیگا‘غیر ملکی کمپنی کی بات مان لیں تو سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں فاضل بنچ نے سماعت کی۔ جس دوران سپریم کورٹ نے داسو ڈیم کے تعمیراتی ٹھیکے کی بولی روکنے کے معاملے پر پاور چائنہ کنسٹرکشن کمپنی کی حکم امتناعی کی درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ منصوبے کے لئے ورلڈ بنک سرمایہ فراہم کررہا ہے کیا ورلڈ بنک کی شرائط سے باہر جایا جاسکتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے یہ سوال بھی کیا کہ عدالتی حکم پر اگر ورلڈ بنک فنڈنگ روک دے تو پھر داسو ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ کون دے گا۔ انہوں نے کہا غیر ملکی کمپنی کی بات مان لیں تو سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ پاور چائنہ کمپنی نے داسو ڈیم کے تعمیراتی ٹھیکے کی بولی روکنے کی استدعا کی تھی۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…