اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ظالموں نے جال مدینہ منورہ تک پھیلادیا ہے، یہ لوگ اللہ کے عذاب اور مسلمانو ں کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکیں گے، ملک کی اہم شخصیت کا بیان منظر عام پر

datetime 7  جولائی  2016 |

اسلام آباد+کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے مر کزی امیر مولانا فضل الرحمن نے سعودی عرب میں ہو نے والے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے پورے عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی وجہ سے پاکستانی قوم میں سخت تشویش اور بے چین ہے افسوس کی ان گھڑیوں میں پوری قو م سعودی عرب کے ساتھ ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے تو پوراعالم اسلام متاثر ہے لیکن اب سعودی عرب کو نشانہ بنا یا گیا ہے جو قابل مذمت ہی نہیں قابل نفرت بھی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے ایمان والوں کے قلبی مقامات کو نشانہ بنایا ہے اس موقع پر پوری قوم سعودی عرب حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی سے سب زیادہ متاثر پاکستان ہوا لیکن اب ظالموں نے مدینہ منورہ تک جال پھیلادیا ہے لیکن ایسے لوگ اللہ کے عذاب اور مسلمانوں کے غیض وغصب سے نہیں بچ سکیں گئے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیئے پاکستانی قوم ہر وقت تیار ہے انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس میں ہونے والے دہشت گردی پر پوری قوم افسردہ ہے ۔دریں اثناء سینٹ کے ڈپٹی چیئر مین اور جے یو آئی کے ناظم عمومی مولانا عبد الغفور حیدری اورحافظ حسین احمد نے کہا کہ دہشت گردوں نے مسلمانوں کے انتہائی مقدس مقامات کے قریب تخریب کاری کر کے مسلمانوں کے جذبات کو افسردہ کیا ہییہشعائر اسلام پر حملہ ہے، دنیا بھر میں صرف مسلم ممالک ہیں جہاں بدامنی تسلسل کے ساتھ جاری ہے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے باعث سعودی عرب عالم اسلام کی عقیدت و محبت اور ایمان کا مرکز ہے،وہاں دھماکے ہونا قابل مذمت اور چشم کشا ہے کہ دشمن ہماری عقیدت کے مرکز مسجد نبوی تک جاپہنچا ہے انہوں عیدا لفطر کے موقع پر پیغمبر اسلام کے روضہ اقدس کے باہر دھماکہ ناقابل برداشت ہے انہوں نے مسلم ممالک پر زوردیا کہ وہ غور کریں کہ دہشت گرد گروہ کن لوگوں نے بنائے ، تاکہ اسلام کو بدنام کریں اور اب سب سے زیادہ بدامنی بھی مسلم ممالک میں ہے شام،عراق اور ترکی کے بعد مدینہ منورہ میں ؂روضہ رسول کے باہر دھماکے آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔درین اثناء اثناء مولانافیض محمد،ملک سکندرخان ایڈوکیٹ اورمولاناعصمت اللہ نے کہاکہ دہشت گردوں نے رمضان میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے قریب حملے کر کے عالم اسلام کو کھلا چیلنج دیا ہے جس کے مقابلے کے لیئے عالم اسلام کو ایک ہو نا ہو گا مسلم ممالک کو جغرافیائی اور مسلکی وفاداریوں سے بالاتر ہوکر اسلام کے نام پر سوچنا چاہیے، اور او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ دشمن اگر روضہ رسول کے باہر تک کارروائی کرسکتا ہے تو آگے اور کیا رہ گیا ہے؟ ہمیں کوئی لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے جن پر قابو پایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…