جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

خود کش بمبار پاکستانی تھا ، سعودی عرب نے بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 5  جولائی  2016 |

واشنگٹن/الریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جدہ میں واقع امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب خود کو اڑانے والا خود کش بمبار عبداللہ گلزار خان نامی شخص پاکستانی تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے ٹوئٹ میں کہا کہ عبداللہ گلزار خان گذشتہ 12 سالوں سے سعودی عرب میں مقیم تھا۔وزارت داخلہ کے مطابق گلزار خان 15 ستمبر 1981 کو پیدا ہوا اور وہ اپنی اہلیہ اور اہلیہ کے والدین کے ہمراہ سعودی عرب میں مقیم تھا۔گلزار خان ڈرائیور تھا اور 12 سال قبل سعودی عرب آیا تھا۔سعودی وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ محافظوں کو صبح سوا دو بجے
کے قریب ڈاکٹر سلیمان فقیہ ہسپتال کے باہر کھڑی ایک گاڑی میں بیٹھے شخص کے بارے میں شک پیدا ہوا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جب محافظ گاڑی کے قریب پہنچے تو اس میں بیٹھے شخص نے ’ہسپتال کی پارکنگ کے اندر اپنی خودکش بیلٹ سے اپنے آپ کو اڑا دیا۔‘سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے حملے کے بعد ایک تنبیہ جاری کی ہے جس میں امریکی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’اپنے گرد و پیش سے باخبر رہیں اور ملک بھر میں سفر کرتے وقت اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔پاکستان کے ریاض میں سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کا ہر اس پاکستانی شخص سے کوئی تعلق نہیں جو سعودی عرب میں کسی بھی قسم کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہو۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…