اسلام آباد (آن لائن) سابق چیف جسٹس و جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ا فتخار چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ ایک منٹ کیلئے خالی نہیں رکھا جاسکتا اور کوئی اور وزیر حلف اٹھائے بغیر وزیراعظم نہیں بن سکتا یہ غیر آئینی ہے۔ نواز شریف کو اپنی پارٹی پر اعتماد ہونا چاہیے جو نہیں ہے وہ بیماری کے دوران کسی اور کو وزیراعظم بناسکتے تھے صدارتی نظام پر بات کرنا شجر ممنوعہ نہیں بلٹ پروف گاڑی کی منظوری اس وقت وزیراعظم نے دی تھی۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ میں نے پارٹی کو منظم کرنے کا کام جاری رکھا ہوا ہے کوئی مجبور اور پابند نہیں کہ وہ میری پارٹی میں شامل ہو انہوں نے کہا کہ میں نے جنرل پاشا سے کبھی ملاقات نہیں کی حامد میر نے اخلاقیات سے گری ہوئی بات کی ۔ جنرل تاور بلوچ ایک اچھے انسان ہیں‘ انہوں نے کہا کہ یہ ملک 20 کروڑ عوام کا ہے وزیراعظم آفس ایک منٹ کیلئے بھی خالی نہیں ہوسکتا جب اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرتی ہیں اور نئے انتخابات ہوتے ہیں اس وقت بھی نگران وزیراعظم تعینات کیا جاتا ہے کیونکہ یہ عہدہ خالی نہیں رکھا جاسکتا انہوں نے کہا کہ کابینہ کا ہیڈ وزیراعظم ہوتا ہے وزراء وزیراعظم کے ماتحت کام کرتے ہیں آرٹیکل 48 کے تحت وزیراعظم کو بہت سے موقعوں پر صدر کو ایڈوائس کرنی پڑتی ہے اور یہ ایڈوائس کوئی اور نہیں کر سکتا یہ ممکن ہی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی پارٹی پر اعتماد ہونا چاہیے لیکن انہیں اعتماد نہیں ہے وہ بیمار ہیں تو کسی اور کو وزیراعظم بنا سکتے تھے انہوں نے کہاکہ موجودہ اپوزیشن سے بہت گلہ ہے انہیں وزیراعظم کی موجودگی میں بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ میں ان سے سوالات کرنے چاہئیں تھے اپوزیشن کا بائیکاٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ پانامہ پیپرز اہم مسئلہ ہے جو بین الاقوامی ہے وزیراعظم اور ایک پٹواری میں فرق ہوتا ہے وزیراعظم کو عہدے سے الگ ہو کر الزامات کا سامنا کرنا چاہیے تھا انہوں نے کہا کہ لے فٹر میں جائیدادیں بہت پہلے خریدی گئیں وزیراعظم کا نام ہے بچوں کا نام 2005 ء کے بعد آیا تحفظات ہونے چاہئیں انہوں نے کہاکہ میں نے ارسلان کو اپنے بیٹے کے طور پر سپریم کورٹ نہیں بلایا تھا اسے ایک ملزم کی حیثیت سے بلایا تھا کیونکہ ایک ادارے پر حرف آیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میری ہمدردیاں وزیراعظم کے ساتھ ہیں زویراعظم کو یہ مرض پہلے سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوموٹو لینا چیف جسٹس کی اپنی مرضی پر ہوتا ہے میں کسی چیف جسٹس کوکوئی ایڈوائس نہیں کرسکتا وہ اسی آئین کے تحت چیف جسٹس ہیں جس آئین کے تحت میں چیف جسٹش تھا انہوں نے کہا کہ پانامہ کے معاملے کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے میں اس پر پٹیشن نہیں کروں گا انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام میں بھی پارلیمنٹ ہوگی لیکن نظام تبدیل ہوگا صدارتی نظام کی بات کرنا شجر ممنوع نہیں ہے صدارتی نظام سے بہتر نظام کی امیدیں پیدا ہوسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ بلٹ پروف گاڑی رکھنا ٹھیک ہے یہ وزیراعظم نے خط لکھا تھا کہ میری ریٹائرمنٹ کے بعد بلٹ پروف گاڑی دی جائے کیونکہ ان کی جان کوخطرہ ہے اب یہ معاملہ عدالت میں ہے اس پر مزید بات نہیں کر سکتا۔
وزیراعظم کا عہدہ ایک منٹ کیلئے خالی نہیں رکھا جاسکتا، ا فتخار چوہدری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
8 بجے تک
-
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق بڑافیصلہ
-
جھنگ کی طالبہ ایشال فاطمہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہو گا؟ پنجاب حکومت نےمالی سال 27-2026کےبجٹ خدوخال کوحتمی ش...
-
’بیوی، بچے بضد تھے کہ مری دیکھنا ہے‘: وین حادثے میں پانچ بچوں، اہلیہ اور والدہ کو کھونے والے ملتان ک...
-
پاکستان میں محرم الحرام کا چاند کب نظر آئیگا؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
-
لٹن داس دنیا بھر میں رضوان کو بدنام کرنے لگے
-
لاہور: بینک میں 5 کروڑ جمع کرانیوالے شہری سے 2 بینک ملازمین رقم لیکر فرار
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
سونے کی قیمت میں آج پھر حیرن کن کمی
-
راولپنڈی: مقامی ہسپتال کی نرس سے اجتماعی زیادتی , ملزمان نے ویڈیو بھی بنائی
-
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج بھی بڑی کمی ریکارڈ
-
سولر صارفین کیلئے بری خبر، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
-
یکم جولائی سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام صارفین کو کتنی رقم ملے گی؟ بڑی خوشخبری آگئی



















































