جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونیوالامحمد ولی کراچی میں کیا کرتا رہا؟ حیرت انگیز انکشافات،اہم گرفتاری ہوگئی

datetime 23  مئی‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی)پاک افغان سرحد کے قریب کوچکی کے مقام پر امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے محمدولی کی شخصیت کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں ۔امریکی حکام اور افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد ولی نامی شخص تحریک طالبان افغانستان کا امیر ملا اختر منصور ہے جبکہ پاکستان نے تاحال اس حملے میں ملااختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے ۔محمد ولی کے حوالے سے حساس اداروں نے کراچی میں بھی اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور انکشاف ہوا ہے کہ وہ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع بسم اللہ ٹیرس میں ایک فلیٹ کا مالک ہے جبکہ اس کامیونسپل کارپوریشن چمن میں ووٹ بھی رجسٹرڈ ہے ۔ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے محمد ولی کی شخصیت پراسرار بن گئی ہے ۔امریکی اور افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ شخص تحریک طالبان افغانسان کا امیر ملا اختر منصور ہے جبکہ پاکستانی حکام اس کی تصدیق نہیں کررہے ہیں کہ کوچکی حملے میں مارا جانے والا شخص طالبان امیر ملااختر منصور ہے ۔حملے کا شکار ہونے والی گاڑی سے ملنے والے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے مطابق پر محمد ولی کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1972 ہے ۔شناختی کارڈ پر موجودہ پتے میں کراچی کے بسم اللہ ٹیرس کے فلیٹ نمبر B-16جبکہ مستقل پتہ میں چمن کا ایڈریس درج ہے ۔جبکہ ولی محمد کا ووٹ میونسپل کارپوریشن چمن میں درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق محمد ولی کے شناختی کارڈ کراچی کا رہائشی پتہ درج ہونے کے بعد حساس اداروں نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔محمد ولی نے کالعدم تنظیم کے کمانڈر سے بسم اللہ ٹیرس کا مذکور ہ فلیٹ خریدا تھا ۔اس سے قبل ایک کالعدم تنظیم کے کراچی کا نائب کماندر جبار چریا اس فلیٹ کا مالک تھا ۔ذرائع کے مطابق جبار چریا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے کہ اس کے محمد ولی سے کس نوعیت کے تعلقات تھے اور محمد ولی کی اصل شخصیت کیا تھی ۔سہراب گوٹھ میں بسم اللہ ٹیرس میں محمد ولی کے فلیٹ میں کرائے پر رہنے والے محمد شاہد نے میڈیا کوبتایا کہ اس نے چند ماہ قبل فلیٹ کرائے پر لیا ہے ۔ محمد شاہد نے کہا کہ فلیٹ اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے کرائے پر حاصل کیا ۔ فلیٹ لیتے وقت اس کی محمد ولی سے بھی ملاقات ہوئی تھی تاہم کرایہ نامہ مکمل ہونے کے بعد کبھی محمد ولی سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ محمد شاہد نے کہا کہ اسے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ محمد ولی نوشکی میں مارا گیا ہے جس کے بعد اس نے تمام صورتحال سے پولیس اور رینجرز کو آگاہ کر دیا جبکہ کرایہ نامہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیاہے ۔فلیٹ کے مالک کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے شخص کی شکل و صورت دکھائے جانے والے خاکے سے بالکل مختلف تھی۔ذرائع کے مطابق حکام نے محمد ولی کے اسٹیٹ ایجنٹ اور فلیٹ کے چوکیداروں کے بیانات قلم بند کر لیے ہیں۔ اسٹیٹ ایجنٹ یاسر عرفات نے بیان دیا ہے کہ محمد ولی بی سولہ فلیٹ میں خود رہتا تھا اور پھر فلیٹ کرائے پر دیا جس کا قومی شناختی کارڈ اور فلیٹ کے تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ محمد ولی تین سے چار ماہ بعد آ کر کرایہ وصول کرتا تھا ۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…