کراچی ( نیو زڈیسک )سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی کے پبلک مقامات ، فلائی اوورز ، گلیوں ، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں سے تمام بل بورڈ 15دن میں ہٹانے کا حکم دیا ہے جبکہ شہر بھرمیں بل بورڈز کے حوالے سے یکساں قانون بنانے کے احکامات جاریکئے ہیں۔جمعرات کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی میں بل بورڈز، ہورڈنگز اور سائن بورڈز کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے کہا کہ ہمارے نزدیک اس معاملے میںعوامی حقوق سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔دنیا بھر میںشہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ۔جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت سوال کیا کہ فٹ پاتھ پر کون بڑے بڑے کھمبے لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ فٹ پاتھ پر قبضہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عوام کا حق ہے کہ وہ پیدل چلیں۔سماعت کے دوران جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاکہ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ بل بورڈز کے لئے درخت کاٹے جا رہے ہیں ، شہر میں رات سینکڑوں درخت کاٹ دئیے گئے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگی سے زیادہ کسی بات کی اہمیت نہیں ہے ۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بیان دیا کہ شہر میں 17 مختلف ادارے کام کر رہے ہیں جن کے اپنے قوانین ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کے ایم سی کس قانون کے تحت بل بورڈ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جاوید میر نے عدالت کو بتایا کہ کلفٹن میں ایک وزیر کے فون پر غیر قانونی بل بورڈ اور سائن بورڈ لگائے جا رہے ہیں ۔جسٹس ثاقب نثار نے ہدایت کی ہے کہ عوامی مقامات پر لگے تمام بل بورڈ اورہوڈنگ مدت پوری ہونے پر ہٹا دیئے جائیں۔ عوامی مقامات پر بل بورڈ اور ہوڈنگ لگانے کے قانون میںکہیںکوئی شق موجود نہیںہے۔جسٹس خلجی عارف نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پورا کراچی بل بورڈز کا جنگل بنا ہوا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اختیار ہے۔ پل اور سڑکوں پر بل بورڈز لگانے کا اختیار کس نے دیا؟ حکومت سندھ کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر لگے بورڈزغیرقانونی ہیں۔کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بل بورڈز کے ٹیکس وصولی کا اختیار کے ایم سی سے ڈی ایم سی کو منتقل ہو چکا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جس ادارے کے پاس خود اختیار نہیں وہ دوسروں کو کیسے اختیار دے سکتا ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہا متعلقہ ادارے بل بورڈ اور سائن بورڈز کے متعلق ضابطہ اخلاق تحریری طور پر بتائیں ، ہمیں بتایا جائے کہ بل بورڈ نہ ہٹانے پر ہم کس سے پوچھیں ، جب ہم فیصلہ کریں گے اور اس پر عمل ہوگا تو پھر کراچی میں گھومنے کا مزا بھی آئے گا ۔دوران سماعت سپریم کورٹ نے بل بورڈ اور ہوڈنگ کےلےے یونیفارم بائی لازپیش کرنے کا حکم بھی دیا ۔عدالت نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل یونیفارم بائی لاز کا ڈرافٹ پیش کریں۔ سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ 15 روز میں پبلک مقامات ، فلائی اوورز ، گلیوں ، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں سے تمام بل بورڈ ہٹا دئیے جائیں ، بل بورڈ اور سائن بورڈز لگانے کا نہ تو نیا معاہدہ ہوگا اور نہ پرانے کی تجدید ہوگی ۔
کراچی،سپریم کورٹ کا عوامی مقامات سے تمام بل بورڈز 15روز میں ہٹانے کا حکم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری



















































