کوہاٹ(نیوزڈیسک) سربراہ پاک فوج جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کرپشن کے خاتمے سے جڑا ہے اور پاکستان کی سالمیت اور ترقی کے لئے بلاامتیاز احتساب ضروری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل راحیل شریف نے سگنل ریجمنٹل سینٹر کوہاٹ کا دورہ کیا جہاں فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ کرپشن کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکے بغیر ملک میں دائمی امن اور استحکام نہیں آسکتا، ملکی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے لئے ہر سطح پراحتساب ضروری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے پاک فوج مکمل تعاون کرے گی۔سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ پوری قوم کی حمایت سے لڑی جارہی ہے، بلاامتیاز احتساب سے ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بہترہوگا اور مسلح افواج آئندہ نسلوں کے لئے ہر بامقصد کوششوں کی مکمل حمایت کریں گی۔آرمی چیف نے میجر جنرل سہیل احمد زیدی کو کرنل کمانڈنٹ سگنل کے بیج لگائے جب کہ اس سے قبل جنرل راحیل شریف نے یادگار شہدا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شہدا کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی۔
بڑے پیمانے پر کرپشن نے آرمی چیف کے صبر کا پیمانہ بھی لبریزکردیا،فوج نے اہم ترین اشارہ دیدیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































