بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

بدقسمتی سے کچھ لوگ میں نہ مانوں والی سیاست کررہے ہیں ، اکثریت ملکی ترقی کی خواہاں ہے،وزیراعظم

datetime 19  اپریل‬‮  2016 |

لندن (نیوز ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت ملک کی ترقی کی خواہاں ہے لیکن بدقسمتی سے 90 کی دہائی میں میں نہ مانوں والی سیاست دفن ہوگئی تھی مگر کچھ لوگ اب بھی میں نہ مانوں والی سیاست کررہے ہیں‘ پانامہ لیکس میں کہیں پر بھی مجھ پر الزام نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم چاہتے ہیں انکوائری کمیشن بننا ضروری ہے‘ چند سیاستدان اتنے میچور نہیں ہیں انہوں نے پھرگند ڈالنا شروع کردیا ہے۔ منگل کو وطن واپسی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں وطن واپس آرہا ہوں ۔میرے طبی معائنے ہوئے۔ اﷲ کا شکر ہے اب میں ٹھیک ہوں ۔قوم کی دعاﺅں سے صحت بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ملکی ترقی اور خوشحالی ہے۔ اﷲ کے فضل سے ملک کے حالات مزید بہتر ہونگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی قوم دھرنوں اور احتجاجی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پاکستانی عوام ملکی ترقی چاہتے ہیں۔ پانامہ لیکس کے معاملے پر کمیشن کے قیام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب دھرنے ہوئے تھے تو ان کے آخر میں طے پایا گیا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد کیا جائے گا ۔پانامہ لیکس کے معاملے پر میری ذات پر کوئی الزام نہیں ہے پھر بھی چاہتے ہیں انکوائری کمیشن بننا ضروری ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے مجھے بتایا ہے کہ کمیشن کیلئے کس کس سے رابطہ کیا گیا اور سپریم کورٹ کی رائے بھی سب کے سامنے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نہ مانوں والی سیاست 1990 کی دہائی میں دم توڑ گئی تھی لیکن بدقسمتی سے چند سیاستدان میں نہ مانوں والی سیاست شروع کررہے ہیں۔ دھاندلی کا شور مچانے والوں نے سپیکر کے انتخابات کے نتائج دوسری بار بھی تسلیم نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کو پاکستان کی ترقی اتنی ہی عزیز ہونی چاہئے جتنی ہمیں ہے، چند سیاستدان اتنے میچور نہیں ہوئے، انہوں نے اب گند ڈالنا شروع کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…