بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

ڈی چوک دھرنا چوہدری نثار نے ایکشن کا اعلان کر دیا

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک کے سکیورٹی اداروں نے ممتاز قادری کے حامیوں کےخلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا ،دھرنے میں شرکت کیلئے آنیوالے سنی رہنماﺅں سمیت700سے زائد مظاہرین کوگرفتارکرلیا گیا ،مزید تفتیش کیلئے پنجاب کی جیلوں میں بند کردیا گیا جبکہ گرفتار شدگان میں ڈی چوک دھرنے میں بیٹھے مظاہرین شامل نہیں۔ وفاقی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ 700 سے زائد مظاہرین کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے جھڑپوں کے دوران گرفتار کیا گیا جو دھرنے میں شرکت کے لئے جارہے تھے گرفتار شدگان میں کچھ رہنما بھی شامل ہیں،ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے ڈی چوک اور پریڈ گراونڈ میں دھرنے میں شامل افراد کو گرفتار نہیں کیا گیا، لیکن دھرنے سے باہر جانے والے مظاہرین کی گرفتاری عمل میں آئی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار مظاہرین کو کچھ پولیس تھانوں سمیت مختلف مقامات پر رکھا گیا اور بعدازاں انھیں اسلام آباد کے قریبی ضلعوں کی جیلوں میں منتقل کردیا گیا۔ایک پولیس اہلکار کے مطابق گرفتار شدگان کی جیلوں میں منتقلی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔مذکورہ اہلکار نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ بہت زیادہ تعداد میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، لہذا کیپیٹل پولیس پہلے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ جس جیل میں مظاہرین کو بھیجا جارہا ہے، وہاں جگہ موجود ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ سنی تحریک (ایس ٹی) اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کی قیادت میں یہ مظاہرین ممتاز قادری کے چہلم میں شرکت کے لیے پہنچے تھے ،یہ مظاہرین تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاوس تک پہنچے، جہاں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا جب کہ آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا۔حکومتی درخواست پر پاک فوج کے دستوں کو بھی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون کی سیکیورٹی کیلئے طلب کرلیا گیا۔ان مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک ریڈ زون میں دھرنا دے رکھا ہے، ان مطالبات میں ملک میں شریعت کا نفاذ، دہشت گردی اور قتل سمیت مختلف مقدمات میں گرفتار کیے گئے سنی علمائ اور رہنماوں کی غیر مشروط رہائی، ممتاز قادری کو شہید تسلیم کیا جانا، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قادری کے سیل کو قومی ورثہ قرار دینا اور توہین کے قوانین میں کسی بھی قسم کی ترمیم نہ کیے جانے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔اتوار کی شام سے شروع ہونے والا مذہبی جماعتوں کا احتجاج تاحال جاری ہے، تاہم دھرنے میں شریک افراد کی تعداد گذشتہ روز 10 ہزار سے کم ہو کر 2 ہزار رہ گئی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…