پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

ایرانی صدر کی پاکستانی صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقاتوں میں گرفتار ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کو رہا کرنے کی درخواست

datetime 28  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایرانی صدر کے دو روزہ دورہ پاکستان کی قدرے تاخیر سے منظر عام پر آنے والی معلومات کی وجہ پاکستان میں کئی ایرانی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی گرفتاری ہے ، سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ لوگ پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور غیرقانونی طور پاکستان کے میں داخل ہوئے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے وزیراعظم نوازشریف، صدر ممنون حسین اور ایرانی وزیر داخلہ نے چودھری نثار علی خان کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران ان اہلکاروں کو رہا کرنے کی درخواست کی جس کا پاکستان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مذکورہ ایرانی اہلکاروں کی گزشتہ کئی ماہ کے دوران کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پاکستان نے باہمی تعلقات کی ساکھ قائم رکھنے کی خاطر اس کا اعلان نہیں کیا لیکن ایرانی حکومت کو گرفتاریوں سے آگاہ کیا جاتا رہا۔تفصیلات کے مطابق مطابق وزیراعظم نوازشریف نے ڈاکٹر حسن روحانی کا ائیرپورٹ پر خود خیرمقدم کیا اور صدر ممنون حسین نے انہیں الوداع کہا۔ تاہم آداب میزبانی اور شائستگی کی تمام روایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی پاکستان کی طرف سے نہ صرف ایرانی وفد کیلئے غیرمعمولی تپاک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ توانائی کے شعبہ سمیت ایران کی طرف سے تعاون کی اہم پیشکشوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ اس ذریعے کے مطابق ایران کی سلامتی کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عمدہ تعاون کے باوجود پاکستان کو مثبت جواب نہیں مل رہا تھا۔ پاکستان گزشتہ ڈیڑھ برس سے براہ راست یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعہ ایرانی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ جنرل راحیل نے ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران اگرچہ یہ معاملہ اٹھایا لیکن اعلیٰ سطح کے دو طرفہ روابط کے دوران پہلے بھی یہ بات ہوتی رہی لیکن پاکستان کی شکایات کا ازلہ نہ ہونے کے بعد اسلام آباد میں یہ طے کیا گیا کہ دوطرفہ تعلقات کو بہترین سطح پر رکھنے کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے ایران سے کھل کر باور کر ایا جائے کہ اس کی سرزمین سے بھارتی کارروائیاں پاکستان اور ایران کے تعلقات پر اب منفی انداز میں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ پاکستانی شکایات کے ازالے کے بعد ہی ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس ذریعے کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستان کو بجلی کی فراہمی ایک ہزار میگاواٹ سے بڑھا کر تین ہزار میگا واٹ کرنے کی پیشکش کی لیکن پاکستان نے فوری جواب نہیں دیا۔ ایرانی صدر نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے دوران کہا کہ سرحدی علاقہ کو پاک ایران تجارت کا مرکز بنایا جائے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب دونوں ملکوں کی سرحد محفوظ ہو جس کے جواب میں انہیں پاکستان کی طرف سے کئے گئے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں شورش کے باوجود پاکستان نے حالات کو بہتر بنایا ہے۔ ایران بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اس ضمن میں ایرانی تجاویز پر پاکستان غور کرے گا۔ پاکستان کی طرف سے خطہ میں استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا ذکر کیا گیا جب کہ ایرانی صدر نے اس تنازعہ کے ذکر سے اجتناب کرتے ہوئے یمن، شام ،عراق اور افغانستان پر توجہ مرکوز رکھی۔ حسن روحانی سلامتی و معاشی تعاون کے حوالے سے تیاری کرکے آئے تھے مگر بھارتی جاسوس کی گرفتاری نے منظرنامہ بدل دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…