جمعرات‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2025 

ٹرمپ کا منصوبہ مسترد، عرب ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کیلئے مصر کے منصوبے کی حمایت کر دی

datetime 5  مارچ‬‮  2025
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عرب ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے مصر کے متبادل منصوبے کی حمایت کر دی ہے۔

منگل کے روز قاہرہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مصر، سعودی عرب، قطر، اردن، شام سمیت کئی دیگر عرب ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد غزہ کی تعمیر نو اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر غور کرنا تھا، جبکہ امریکی منصوبے کے خلاف مشترکہ عرب حکمت عملی تیار کرنا بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔

اجلاس کے دوران مصر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کو سختی سے رد کرتے ہوئے ایک نیا منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا اور انہیں ان کی زمین پر برقرار رکھنا ہے۔ مصر کے اس مجوزہ منصوبے کے تحت 53 ارب ڈالر کی لاگت سے پانچ سال میں غزہ میں لاکھوں گھروں کی تعمیر، تجارتی بندرگاہ اور ایک جدید ایئرپورٹ کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، فلسطینی علاقوں میں انتخابات کروانے اور دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

طویل گفت و شنید کے بعد اجلاس کے اختتام پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اعلان کیا کہ مصر کا یہ منصوبہ اب پوری عرب دنیا کا مشترکہ منصوبہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کسی مخصوص منصوبے کا نام لیے بغیر واضح کیا کہ عرب ممالک فلسطینیوں کی جبری یا رضاکارانہ بے دخلی کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس موقع پر کہا کہ عرب ممالک نے غزہ میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مصر کے منصوبے کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے، تاکہ وہاں کے باسی اپنی سرزمین پر ہی محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مصر اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان مشاورت کے بعد ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ماہر فلسطینی افراد پر مشتمل ہوگی۔ یہ کمیٹی غزہ میں حکومتی امور کی دیکھ بھال اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل نہ کر لے۔

اجلاس کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی خطاب کیا اور غزہ کا انتظام مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرکے دیگر ممالک میں منتقل کیا جانا تھا، جبکہ اس علاقے میں ایک جدید “ریویرا” تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ گزشتہ ماہ ٹرمپ نے یہاں تک اعلان کیا تھا کہ امریکا غزہ پر قبضہ کرے گا اور اس خطے کو اپنے کنٹرول میں لے کر استحکام لائے گا، تاکہ یہاں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، اقوام متحدہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر زور دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے


میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…