جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا افغانستان میں 20 کروڑ 36 لاکھ ڈالر سے ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ

datetime 11  فروری‬‮  2021 |

کابل (آن لائن) بھارت نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ڈیم بنانے کا با ضابطہ اعلان کی کر دیا جس پر 20 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی لاگت آئے گی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے کے مطابق شہتوت نامی ڈیم کی تعمیر سے کابل کے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کو صاف پانی پینے کی سہولت میسر ہو سکے گی، اور ملک بھر میں آبپاشی

کے نظام میں بہتری آئے گی۔ماہرین کے خیال میں یہ نیا منصوبہ انڈیا کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے رابطے کے دوران ڈیم کی تعمیر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تھا۔افغانستان کے صدارتی محل میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے ڈیم کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کیے۔گذشتہ سال نومبر میں انڈیا نے افغانستان کے لیے کئی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا تھا جن میں شہتوت ڈیم کی تعمیر بھی شامل ہے۔انڈیا کا افغانستان میں آٹھ کروڑ ڈالر کی لاگت کے 150 کمیونٹی پراجکٹس بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ویڈیو لنک اجلاس کے دوران صدر اشرف غنی نے انڈیا کے افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے پر وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا تھا ۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیا کے لیے افغانستان کا پر امن ضروری ہے۔شہتوت ڈیم دریائے کابل پر تعمیر کیا جائے گا جس کی تکمیل میں چھ سال کا عرصہ لگے گا۔افغانستان کے واٹر مینجمینٹ محکمے کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ڈیم میں دس لاکھ 46 ہزار کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت ہوگی جس سے ملک میں پانی کا بحران کچھ حد تک کم ہو سکے گا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل شہر کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 70 فیصد آبادی کو نلکے کے پانی

تک رسائی حاصل نہیں ہے۔اس سے قبل انڈیا نے افغانستان میں دو ارب ڈالر کی لاگت کے کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں جن میں پارلیمان کی عمارت اور ایران کے ساتھ سرحد پر ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی انڈیا افغانستان میں کئی تعمیراتی منصوبے مکمل کر چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…