جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کرونا وائرس کی پھیلتی وباء میں اموات سے بچائو کا واحد حل برطانوی ماہرین نے بتا دیا

datetime 14  جون‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی یونیورسٹی کی ایک تحقیق نے غریب اور ترقی پزیر ممالک میں کورونا کے حوالے سے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لاک ڈائون کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اموات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے، روزنامہ جنگ کے مطابق برطانیہ کی معتبر تحقیقی یونیورسٹی”ایمپریل کالج لندن“ نے دنیا بھر کے غریب اور

ترقی پزیر ممالک میں کورونا کے حوالے سے اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔ یونیورسٹی کی طرف سے اس تحقیقی پروگرام کی معاونت برطانوی حکومت کی طرف سے کی گئی ہے۔اس کی ویب سائٹ پرلاک ڈائون کے بغیر اور اس کے اطلاق کی صورت میں کورونا کے انفیکشن کے پھیلائو اور اموات کو گراف اور چارٹ کی شکل میں واضح کیا گیا کہ کب کتنی اموات ہوسکتی ہیں۔ اس تحقیق میں برطانیہ یا امریکا کے حوالے سے اعدادوشمار پیش نہیں کیے گئے۔پاکستان کے حوالے سے اس ویب سائٹ نے جو منظر نامہ پیش کیا ہے وہ یوں ہے کہ27فروری سے 11جولائی تک یعنی135دن تک 32فی صد لاک ڈائون رہے تو چاراگست کو کوروناکا پھیلاو اپنی انتہا کو ہوگا اور ایک کروڑ 35لاکھ 70ہزار افراد کورونا سے متاثر ہوں گے۔اموات کے حوالے سے دس اگست پاکستان میںبدترین دن ہوگا جب اموات78515تک پہنچ جائیں گی۔اس کے بعد اموات میں کمی آنا شروع ہو جائے گی جنوری2021 کورونا کے خاتمے کا ماہ ہوگا۔26جنوری2021تک پاکستان میں کورونا سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد2132617 ہوں گی۔اگر لاک ڈائون نہ کیا گیا تو26جنوری تک22لاکھ29ہزار سے زائد اموات ہوں گی۔اگر آج سے سو فی صد لاک ڈائون کیا جائے تو پاکستان میں26جنوری تک مجموعی اموات دس ہزار دو سوسے زائد ہوسکتی ہیں۔پاکستان میں148120 جنرل بیڈ ز اوروینٹی لیٹرز بیڈز 2962ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق

13جون تک258 اموات رپورٹ ہوئیں جب کہ حکومت پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق 2574اموات ہوچکی ہیںبھارت میںیکم مارچ سے 11جولائی تک132دن کے35فی صد لاک ڈائون کی صورت میں پانچ اگست کو کورونا کا پھیلائو انتہا کو ہوگا اور 9کروڑ 94لاکھ افراد کورونا میں مبتلا ہوں گے گیارہ مارچ ہلاکت خیز انتہا ہوگی جب چھ لاکھ 12ہزار اموات پہنچ جائیں گی۔25جنوری 2021بھارت میں

کورونا ختم ہو گا۔ تب تک لاک ڈائون کے ساتھ ایک کروڑ36لاکھ 50ہزار اموات ہوجائیں گی۔ اگر لاک ڈائون نہ کیا گیا تو یہ اموات ایک کروڑ42لاکھ44ہزار سے تجاوز کرجائیں گی۔ سو فی صد لاک ڈائون کی صورت میں42512اموات ہوسکتی ہیں۔ افغانستان میں یکم مارچ سے12جولائی تک 133دن 53فی صد لاک ڈائون کی صورت میں آٹھ اگست33ہزار افراد کے متاثر ہونے کے ساتھ پھیلائو کا انتہا کا دن ہوگا۔

تیرہ اگست ہلاکتوں کے لحاظ سے انتہا پر ہوگا جب 14ہزار سے زائد اموات ہوجائیں گی۔ افغانستان میں 19فروری2021کورونا کے خاتمے کا دن ہوگا جب لاک ڈائون کے ساتھ تین لاکھ پانچ ہزار سے زائد اموات کا امکان ہے لاک ڈائون نہ ہونے کی صورت میں یہ ہلاکتیں 3لاکھ 14ہزار ہوسکتی ہیں۔ سو فی صد لاک ڈائون کی صورت میں ان اموات کو ایک ہزار آٹھ تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ بنگلادیش میں بارہ مارچ سے بارہ جولائی تک118دن کے چالیس فی صد لاک ڈائون کے ساتھ دس اگست کو کورونا کے انتہائی پھیلائو کے ساتھ متاثر کی تعداد ایک کروڑ 21 لاکھ سے تجاوز کرجائے گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…