جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کی جانب سے 52اہداف کونشانہ بنانے کی دھمکی ،ایران نے بھی ممکنہ جوابی حکمت عملی بتا دی

datetime 6  جنوری‬‮  2020 |

بغداد(این این آئی)ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسین نقوی حسینی نے کہاہے کہ ضروری نہیں کہ امریکا کے ہاتھوں مارے جانے والے جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کا انتفام ایران کے اندر سے لیا جائے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق گفتگوکرتے ہوئے امریکی صدر کی جانب سے 52 ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے سے متعلق دھمکی کا جواب دیتے ہوئے حسین نقوی حسینی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، ایرانی فوجی اڈوں کو بمباری سے نشانہ بنانے کی جرات نہیں کرے گا۔سپاہ پاسداران ایران کے سیاسی معاون ید اللہ جوانی نے اس رائے کا اظہار کیا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ ایران کے بجائے خطے کے عوام اور مزاحمت کے محور پر نگاہ رکھے۔ ان کا اشارہ ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کی جانب تھا جن میں غزہ کے اندر حماس، لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور عراق کے اندر پاپولر موبلائزیشن فورس جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ تنظیمیں بھی قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے میں اپنا تعاون پیش کر سکتی ہیں۔ ید اللہ جوانی کے بقول امریکا، یورپی ملکوں کے اندر سے بھی بدلے کا آپشن ذہن میں رکھے۔انھوں نے بتایا کہ مزاحمت نواز گروپ اپنی ترجیحات، ضروریات کو اپنے طریقہ کار کے مطابق سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ ابو مھدی مھندس اور جنرل سلیمانی کا قتل علاقے سے امریکی فوجوں کی بیدخلی کے عمل میں عمل انگیز کا کام کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…