جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کی معطلی اور مذاکرات کی منسوخی کے بعدطالبان کی ایک اور بڑی کارروائی،کھلبلی مچ گئی

datetime 8  ستمبر‬‮  2019 |

کابل(این این آئی)طالبان نے مشرقی صوبے پکتیا میں سرکاری اور نجی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے چھ افغان صحافیوں کو اغوا کر لیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یرغمال بنائے گئے رپورٹر پشتو اور دری زبانوں میں نشریات پیش کرنے والے نشریاتی اداروں اور نیوز کمپنیوں میں کرتے ہیں۔

وہ پکتیا میں ایک میڈیا ورکشاپ میں شرکت کے لیے ہمسایہ صوبے پکتیکا سے آرہے تھے۔ صوبہ پکتیا کے گورنر کے ترجمان عبداللہ حسرت نے کہا کہ ہم ان صحافیوں کی رہائی کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کررہے ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان چھے صحافیوں کے اغوا کی تصدیق کی اور کہا کہ انھیں ہمارے جنگجوؤں نے یرغمال بنایا ہے مگر انھیں جلد رہا کردیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اس وقت پکتیاکے اس علاقے میں موبائل سروسز کام نہیں کررہی ہیں لیکن جونھی مقامی کمانڈر سے ہمارا رابطہ ہوتا ہے تو ان صحافیوں کو جلد رہا کردیا جائے گا۔کمیٹی برائے تحفظ صحافیاں (سی پی جے) کی رپورٹ کے مطابق افغانستان 2018ء میں صحافیوں کے لیے دنیا میں سب سے خطرناک ملک رہا تھا اور گذشتہ سال تیرہ صحافی تشدد کے واقعات میں مارے گئے تھے جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال سولہ صحافیوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔جون میں طالبان نے افغان میڈیا کو دھمکی دی تھی کہ وہ افغان حکومت کا مزاحمت کاروں کے خلاف پروپیگنڈا نشر کرنا بند کردیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو صحافیوں کو حملوں میں نشانہ بنایا جائے گا۔انھوں نے میڈیا اداروں کو طالبان مخالف اشتہاروں کی بندش کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا تھا۔افغان حکومت اور مغربی سفارت کاروں نے طالبان کی اس دھمکی کی مذمت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…