پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی جیٹ ایئرویز کی بینک سے فنڈنگ درخواست مسترد ہونے پر آپریشن معطل

datetime 18  اپریل‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی جیٹ ایئرویز لمیٹڈ نے ایئرلائنز کی ہنگامی فنڈنگ کی درخواست مسترد ہونے پر عارضی طور پر اپنی آپریشنز معطل کردیے۔غیر میڈیا کے مطابق کمپنی میں موجود 3 ذرائع نے بتایا کہ ایئرلائن 1.2 ارب ڈالر کا مقروض ہے اور کمپنی ہفتوں سے

قرض دہندگان سے مارچ کے مہینے میں ہونے والے ریسکیو معاہدے کے تحت 21 کروڑ ڈالر سے زائد قرض لینے کی کوشش کر رہی تھی تاہم ناکام رہی۔علاوہ ازیں سرکاری بینکوں کے مزید 2 ذرائع کے مطابق جیٹ ایئرویز کی اپنی آپریشن جاری رکھنے کے لیے بینک سے 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی درخواست کی تھی جسے مسترد کردیا گیا جبکہ اس کے قرض دہندگان نے ایک سرمایہ کار کی نشاندہی کی جو ایئرلائن میں اکثریتی اسٹیک حاصل کرکے اسے تبدیل کرنا چاہتا ہے۔جیٹ ایئرویز کے قرض کے امور میں براہ راست شامل ایک بینک ذرائع کے مطابق ’بینکز ایسی حکمت عملی نہیں کرنا چاہتے جس سے ایئرلائنز چند دنوں کیلئے اپنی پرواز میں رہے اور بعد ازاں اسے دوبارہ فنڈنگ کی ضرورت ہو۔تمام پانچوں ذرائع نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کیا کیونکہ انہیں اس معاملے پر میڈیا سے گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ۔جیٹ ایئرویز اور اس کے سب سے بڑے قرض دہندہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے معاملے پر فوری طور پر اپنی رائے دینے سے انکار کیا۔خیال رہے کہ اپنے کاروبار کی بلندی پر جیٹ ایئرویز کے پاس 120 طیارے اور روزانہ کی 600 فلائٹ ہوا کرتی تھیں۔بھارت کے کسی زمانے میں سب سے بڑی نجی ایئرلائن رہنے کا اعزاز رکھنے والے جیٹ ایئرلائنز اور حالیہ ہفتوں میں اپنی سو سے زائد اندرون ملک اور تمام بیرون ملک جانے والی پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…