پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

’’نقاب میری جوتی کے نیچے‘‘سوشل میڈیاپر نیا سعودی ہیش ٹیگ،خواتین نے اپنی ایسی تصاویر پوسٹ کردیں کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2018 |

ریاض(نیوزڈیسک) سعودی خواتین نے سوشل میڈیا پر چہرے کے نقاب کی پابندی کے خاتمے کی مہم میں شدت پیدا کر دی ہے۔ کئی ایسی خواتین کا موقف ہے کہ انہیں جبراً چہرے کا نقاب کرنا پڑتا ہے۔سوشا میڈیا پر متحرک سعودی خواتین چہرے کے نقاب کے حوالے سے نقاب میری جوتی کے نیچے بھی استعمال کر رہی ہیں۔ بعض خواتین نے اپنی ایسی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں، جن میں وہ اپنے چہرے کے نقاب کو لہراتی دکھائی دی گئی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ انہیں یہ جبراً پہننا پڑتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں ایسے کوئی ضوابط یا وفاقی قوانین موجود نہیں ہیں کہ جن سے یہ ظاہر ہو کہ خواتین کے لیے کس انداز کے پہناوے درست ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی پولیس اور عدلیہ خواتین کے لباس کو شریعت کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ سعودی عرب میں قرآنی شریعت، قانون کا سب سے اعلیٰ ماخذ قرار دیا جاتا ہے۔حالیہ ایام کے دوران سعودی خواتین نے خاص طور پر ٹویٹر پر اپنے ایسے واقعات بیان کیے ہیں، جن کے مطابق انہیں چہرے کے نقاب کو پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور بسا اوقات سخت رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان واقعات میں کئی خواتین نے چہرے کے نقاب کو پہننے کے عمل کو دم گھٹنے سے بھی تعبیر کیا ۔ کئی خواتین نے نقاب کے ساتھ ایک جملہ بھی تحریر کیا کہ اس کے وجہ سے زندگی تلخ ہو کر رہ گئی ہے۔دوسری جانب اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سبھی سعودی خواتین نقاب پہننے کے خلاف جاری احتجاجی مہم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس تناظر میں چہرے کے نقاب کو پسند کرنے والی اور اس کی حامی خواتین نے ان عورتوں کے خلاف بے ادب کی مہم بھی سوشل میڈیا پر جواباً شروع کر رکھی ہے۔سعودی خواتین کا ایک حلقہ نقاب کے ساتھ ساتھ عبایہ مخالف مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان خواتین کا موقف ہے کہ سعودی اخلاقی تقاضوں کی روشنی میں عبایہ سے ہٹ کر بھی لباس پہنا جا سکتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018 کے مہینے مارچ میں کہا تھا کہ خواتین نقاب یا عبایہ کے علاوہ دوسرے مناسب لباس پہننے کا فیصلہ خود سے کر سکتی ہیں۔ شہزادہ محمد کے اس بیان کے جواب میں سعودی عرب کی پولیس کا موقف ہے کہ ابھی کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ابھی تک اس چہرے کے نقاب کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری احتجاجی کمپین یا مہم کے حوالے سے سعودی حکومت کا ردعمل سامنے نہیں آیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…