ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی فوج کا شام سے انخلا، ترک دھمکیوں کے باوجودشامی فوج منج میں داخل،ترکی اور شام میں ٹھن گئی،صورتحال انتہائی تشویشناک

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

دمشق(نیوزڈیسک) شام میں حکومت کی حامی فوجیں ملک کے شمال میں واقع اہم شہر منبج میں چھ سال بعد پہلی بار داخل ہوگئیں ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ شہر کرد جنگجووں کے کنٹرول میں رہا ہے مگر امریکہ کے شام سے انخلا کے بعد امریکہ حامی کرد فورسز کو خوف تھا کہ ہمسایہ ملک ترکی ان کے خلاف کارروائی نہ شروع کر دے۔

اطلاعات کے مطابق شامی فوجوں نے کردوں کی درخواست پر اس شہر پر قبضہ کیا ہے۔  ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک صدر اردوغان کا شام میں اصل ہدف کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) ملیشیا ہے، جسے امریکہ نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے لیے تربیت دی تھی۔گذشتہ ہفتے امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ شام سے تقریباً 2000 فوجی واپس لے کر جا رہا ہے۔اب ترکی دولتِ اسلامیہ کے بہانے کردوں کو نشانہ بنائے گا، یہ شک کردش فورسز کو شامی حکومت سے بظاہر تعاون کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔واضح رہے کہ ترکی اپنی سرحد میں کرد جنگجو تنظیم وائی پی جی ملیشیا کے داخلے کا شدید مخالف ہے۔ ترکی کو اس بات کا خوف ہے کہ یہ تنظیم ترکی میں علیحدگی پسند کرد اقلیت کو مضبوط کرے گی۔ترکی کا کہنا تھا کہ وہ شام سے دولتِ اسلامیہ کی شکست کے بعد اس کی باقی ماندہ طاقت کو ختم کر سکتا ہے، تاہم ماہرین نے ترکی کے اس دعوے پر شک کا اظہار کیا ۔ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو نے کہا کہ ان کا ملک جلد سے جلد دریائے فرات کا مشرقی حصہ عبور کر کے شام کے شمال تک پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شام میں حکومت کی حامی فوجیں ملک کے شمال میں واقع اہم شہر منبج میں چھ سال بعد پہلی بار داخل ہوگئیں ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ شہر کرد جنگجووں کے کنٹرول میں رہا ہے مگر امریکہ کے شام سے انخلا کے بعد امریکہ حامی کرد فورسز کو خوف تھا کہ ہمسایہ ملک ترکی ان کے خلاف کارروائی نہ شروع کر دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…