پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

طالبان کا عروج افغانستان میں بھارت کیلئے تابوت کی آخری کیل ،امریکہ انخلاء کے بعد کیا ہوگا؟بھارتی دانشورکے چونکادینے والے انکشافات

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں موجود فوجی دستوں کی تعداد میں کمی کے منصوبے نے بھارت میں خطرے کی گھنٹی بجادی۔ بھارتی ماہرین اب یہ خیال کررہے ہیں کہ بھارت کو طالبان کے خلاف دشمنی پر مبنی رویے میں تبدیلی لانا ہوگی کیوں کہ آئندہ صورتحال میں وہ افغانستان میں انتہائی اہم اثرو رسوخ کی حیثیت کے حامل ہوں گے۔

متعدد بھارتی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تبصروں میں بھارتی دانشوروں اور تھنک ٹینک ماہرین نے اس بات کا اظہار کیا کہ واشنگٹن افغانستان سے اپنی فوج کا مکمل انخلا کرسکتا ہے جس سے پاکستان اور طالبان دونوں کو فائدہ ہوگا۔اس سلسلے میں ماضی میں پاکستان میں کام کرنے والے بھارتی انٹیلی جنس عہدیدار اویناش موہنانے نے امریکی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ یہ دہلی کے لیے ایک بری خبر ہے، جسے کے نتائج کے لیے تیار ہونا ضروری ہے۔انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ پہلے واشنگٹن سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ افغانستان سے جلد بازی میں انخلا نہ کرے، اور اس کے بعد طالبان تک رسائی حاصل کرے کیوں کہ ان کا متوقع عروج افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت اور بھارتی اثر رسوخ کے لیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ان کے مطابق بھارت کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان اس کے ساتھ دوستانہ رویہ برقرار رکھے، جس میں دشمنی کے رویے کی گنجائش نہیں ہوگی۔بھارتی تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ہرش پنت نے لکھا کہ افغانستان سے امریکی انخلا بتدریج خانہ جنگی میں تبدیل ہوسکتا ہے کیوں کہ نہ صرف مقامی کردار طاقت کے حصول کے لیے لڑیں گے بلکہ ’متعدد علاقائی اسٹیک ہولڈرز بھی اپنی اپنی ترجیحات کیحساب سے میدانِ جنگ کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ہر ش پنت نے خبردار کیا کہ افغانستان میں طالبان کا مضبوط ہونے سے ان کا اثر ہمسایہ ملک پاکستان اور کشمیر میں پھیلے گا جو بھارت کے لیے ایک بری خبر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…