پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

ترک فوج کی شام میں موجودگی چڑھائی کے زمرے میں آتی ہے،جرمن پارلیمنٹ

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی کی پارلیمنٹ کے لیے ماہرین کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی شام میں فوجی موجودگی بین الاقوامی قانون کے مطابق اس ملک پر چڑھائی کے معیار پر پورا اْترتی ہے۔جرمن ٹی وی کے مطابق جرمن لیفٹ پارٹی کی درخواست پر پارلیمان کی

ریسرچ سروس نے یہ رپورٹ تیار کی ۔اس میں ترک فوج کی شام کے شمالی علاقے میں موجودگی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ترکی کا اس وقت شام کے شمال مغرب میں ایک بڑے علاقے پر کنٹرول ہے۔اس میں سرحدی شہر الباب ، جرابلس اور اعزاز بھی شامل ہیں۔ ترک فوج اور اس کے اتحادی شامی باغیوں نے اگست 2016ء میں داعش کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن فرات کی ڈھال کے دوران میں ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ترکی نے اس سال شام کے شمال مغربی صوبے عفرین پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اس پر پہلے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی) کا کنٹرول تھا۔ ترکی اس کرد ملیشیا کو اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں ترک سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار کرد باغیوں کے کالعدم گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی توسیع قرار دیتا ہے۔ترکی نے اس مسلح گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔جرمن ماہرین کی رپورٹ کے مطابق جب شام کے شمال میں عفرین ، اعزاز ، الباب اور جرابلس میں ترکی کی فوجی موجودگی کا جائزہ لیا گیا ہے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ موجودگی بین الاقوامی قانون کے مطابق فوجی چڑھائی کے معیار پر بالکل پورا اترتی ہے۔جرمن پارلیمان میں لیفٹ پارٹی کی ڈپٹی چیئرمین سیویم داغدلین نے چانسلر اینجیلا میرکل کی حکومت کو شام میں ترکی کی فوجی سرگرمیوں کا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر جائزہ نہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ ایک سکینڈل ہے کہ ترکی نیٹو کے ایک اتحادی کی حیثیت سے شام کے بعض علاقوں میں داخل ہوا ہے اور اس کی فوجی چڑھائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں دیکھا جارہا ہے حالانکہ تمام ماہرین کی رپورٹس میں اس کو خلاف ورزی ہی قراردیا گیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی یہی موقف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…