اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکیوں کو ملک سے نکالنے کے بعد خود سعودی عرب اب ایسی مشکل میں پڑ گیا جس کا سعودی حکومت نے سوچا بھی نہ تھا

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پچھلے کچھ عرصے کے دوران  سعودی حکومت اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرنے کے لیے  پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیرملکیوں کو بیروزگار کرکے ملک سے نکال چکی ہے لیکن جو اب بھی سعودی عرب میں مقیم ہیں ان پر طرح طرح کے ٹیکس لاگو کر چکی ہے لیکن ان اقدامات کے نتیجے میں اب وہ ایک ایسی مشکل میں پھنس گئی ہے جس کا اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق

تارکین وطن پر بھاری ٹیکس عائد کرنے اور انہیں ملک سے نکالے جانے کی وجہ سے سعودی عرب میں ماہر لیبر کا قحط پڑنا شروع ہو گیا ،جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ حکومت نے غیرملکیوں کے زیرکفالت بچوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد کر دیا ہے جس کی وجہ سے تارکین وطن اپنے بچوں کو آبائی ممالک بھیجنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور بعض خود بھی واپس جا رہے ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں کم تنخواہ پر کام کرنے والی لیبر کم ہوتی جا رہی ہے۔ چیمبر آف کامرس نےمطالبہ کیا کہ جن فرمز اور کمپنیوں میں تارکین وطن اور سعودی شہری برابر تعداد میں کام کر رہے ہیں ان میں کام کرنے والے تارکین وطن پر عائد ٹیکس ختم کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو کچھ ہی عرصے میں 25سے 30فیصد پرائیویٹ کاروبار ٹھپ ہو جائیں گے۔ کونسل آف سعودی چیمبرز نے بھی اپنی تجاویز دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اول تارکین وطن پر عائد ٹیکس کو 2025ءتک مؤخر کیا جائے اور پھر چھوٹے اور درمیانے کاروباروں میں کام کرنے والے غیرملکیوں کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت کی نئی پالیسیوں کی وجہ سے بہت سے پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں نے اپنے اپنے وطن کا رخ کرلیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…