جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران اور ترکی میں نیا تنازعہ شروع

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

انقرہ /تہران (آئی این پی)ترکی اور ایران کے درمیان پناہ گزینوں کی آمد ورفت کے معاملے میں تازہ کشیدگی سامنے آئی ہے، دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر پناہ گزینوں کو داخل کرنے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں ترک حکام پر تہران کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا الزام عاید کیا ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے ترک حکومت کے ایک

عہدیدار کے اس بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران لاکھوں پناہ گزینوں کو ترکی میں دھکیل رہا ہے۔خیال رہے کہ ترک وزیراعظم کے معاون ویسی کائناک نے ترک سی این این سے بات کرتے ہوئے تین ملین پناہ گزین جن میں اکثریت افغان پناہ گزینوں کی شامل ہیایران کے راستے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک عہدیدار کے اس بیان کو بے بنیاد اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف قرار دیا۔قبل ازیں ترک عہدیدار نے کہا تھا کہ انہیں مصدقہ ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ ایران سے 30 لاکھ کے قریب پناہ گزینوں کو ترکی دھکیلنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان غیر رجسٹرڈ مہاجرین میں بیشتر کا تعلق افغانستان سے ہے۔ویسی کائناک نے ایران کی طرف سے مبینہ طور پرپناہ گزینوں کو ترکی میں دھکیلنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تہران نے ان پناہ گزینوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی ان کی مدد کی ہے۔ اب یہ لوگ مغرب جانے کے لیے ترکی داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ترکی اور ایران کے درمیان شام کے معاملے پر بھی باہمی الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ترکی ایران پر شام میں کشیدگی کو ہوا دینے اور صدر بشارالاسد کی آمریت کی بقا میں مدد کرنے کا الزام عاید کرتا ہے۔ چند ہفتے پیشتر ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی ایرانی ہم منصب حسن

روحانی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں میں پائی جانی والی سرد جنگ کی حدت میں کچھ کمی آئی تھی۔ گذشتہ دس سال کے دوران ایران اور ترکی کے صدور کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…