بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب،خلیفہ اول کے حبشہ کے سفر میں آ نے والے مقام “البِرک” کے بارے میں حیرت انگیزانکشافات

datetime 13  مارچ‬‮  2017 |

ریاض(آئی این پی )سعودی عرب اور برطانیہ کی ایک تحقیقی ٹیم نے مملکت کے صوبے عسیر کے ضلع “البِرک” میں آثاریاتی نوادرات دریافت کرلیے ، یہ پیش رفت کچھ عرصہ قبل مذکورہ علاقے میں ہونے والی کھدائی کے دوران ہوئی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کنگ سعود یونی ورسٹی میں تاریخ اور آثارقدیمہ کے پروفیسر ڈاکٹر سعید السعید کے مطابق کھدائی کے دوران پتھروں پر کندہ 14 نقوش بھی سامنے آئے ہیں۔عسیر

کے ساحل میں سعودی برطانوی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ضیف اللہ العتیبی نے واضح کیا کہ ٹیم نے جزیرہ فرسان اور مملکت کے جنوب مغربی ساحلوں کا سروے کیا اور رواں برس تحقیقی کام کا دائرہ کار عسیر صوبے کے ضلع البرک میں تھا۔البرک میں پائے جانے والے کئی سنگِ میل اور تاریخی نقوش ہزاروں سالوں سے جزیرہ نما عرب کے بیچ اس مقام کی تاریخی حیثیت اور اقتصادی اہمیت کو باور کراتے ہیں۔ ان میں نمایاں ترین مقام “جبل العش” ہے جس کو مقامی لہجے میں “جبلِ ام عش” بولا جاتا ہے۔ یہاں موجود تاریخی نقوش قدیم “المسند” خط میں تحریر ہیں۔ڈاکٹر سعید السعید کے مطابق انہوں نے اپنے تحقیقی مطالعے میں البرک کے پہاڑی علاقے میں پتھروں پر 14 نقوش کی دریافت کا ذکر کیا ہے۔”البرک” کی تاریخ میں تخصص کے حامل محقق عبدالرحمن آل عبدہ کے مطابق ” البرک کی باڑھ اس کے وسط میں واقع ہے۔ یہ 629 ہجری کے اوائل میں بنائی گئی پھر 704 ہجری میں اس کی تجدیدِ نو ہوئی۔ بعد ازاں کئی دہائیوں تک اس کی تجدید اور اس میں اضافوں کا سلسلہ جاری رہا”۔البرک کے تاریخی محلات اور آثاریاتی قلعوں کو یہاں کے نمایاں ترین تاریخی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں وادی ذہبان کے مقابل قلعہ بھی شامل ہے جو جنوب میں 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مشرقی جانب سے باقی رہ جانے والے اس کے آثار اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔”البِرک” میں تیسری اور چوتھی

صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے تہذیبی ورثے کے آثار اب بھی برقرار ہیں۔ بہت سے مرخین اور جغرافیائی ماہرین کا کہنا ہے کہ “البِرک” ہی درحقیقت “بِرک الغماد” کا مقام ہے جس کا ذکر مصادر اور عرب ورثے کی کتابوں میں موجود ہے۔خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مسجد یہاں کے اہم ترین تاریخی یاگاروں میں سے ہے۔ اس کا رقبہ 90 مربع میٹر ہے اور یہ شاہراہِ الدولی سے 300 میٹر کی دوری پر ہے۔

عبدالرحمن آل عبدہ کے مطابق یہ مسجد خلیفہ اول نے اس وقت تعمیر کی جب وہ حبشہ کے لیے ہجرت کے سفر میں البِرک سے گزرے تھے۔اس مسجد کے نزدیک “المجدور” کا تاریخی کنواں بھی ہے جس کی گہرائی نو میٹر اور چوڑائی دو میٹر ہے۔ بحرِ احمر کے قریب ہونے کے باوجود یہ کنواں البِرک میں پینے کے صاف پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور مرکزی راستوں میں باغوں اور درختوں پر پانی کے چھڑکا کے لیے بھی اسی کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…