جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

ایران کے نئے سپریم لیڈر کا نام سامنے آگیا،1988ء میں کیا کرتے رہے ؟خبررساں ادارے کا حیرت انگیز دعویٰ

datetime 11  جنوری‬‮  2017 |

تہران(این این آئی)ایران میں سابق صدر اور مصالحتی کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی وفات کے بعد ان کے جانشین کے حوالے سے غیر سرکاری طور پر نام سامنے آنا شروع ہوگئے ۔ اس ضمن میں ایک شدت پسند مبلغ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کارندہ خاص ابراہیمی رئیسی کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق 56 سالہ ابراہیم رئیسی سنہ 1988ء میں قائم کردہ اس ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کے رکن رہ چکے ہیں جسے مجاھدین خلق اور دیگر تنظیموں سے وابستہ ہزاروں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کے حکم پر تشکیل دیا گیا تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق براہیم رئیسی کو نہ صرف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے بلکہ وہ پاسداران انقلاب کے بھی پسندیدہ امیدوار ہیں۔سپریم لیڈر کے حکم پر ابراہیم رئیسی کو تین اہم عہدوں پر فائز کیا جا چکا ہے۔ وہ ماہرین کونسل کے رکن ہیں، مذہبی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر اور مشہد شہر کے اہم عہدیدار ہیں۔ابراہیم رئیسی کا نام گذشتہ برس مارچ میں اس وقت سامنے آیا جب سپریم لیڈر نے انہیں امام الرضا کے مزار کی نگران ’قدس رضوی آستانہ’ فاؤنڈیشن کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔اس سے قبل یہ عہدہ مذہبی رہ نما عباس واعظ طبسی کے پاس تھا جو 37 سال تک اس عہدے پر اپنی وفات تک فائز رہے۔خیال رہے کہ آستانہ قدس رضوی فاؤنڈیشن ایران کا سب سے بڑا فلاحی اور خیراتی ادارہ ہے۔ جو ’بنیاد‘ فاؤنڈیشن کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کے ذریعے ہونے والی آمد کل پیداوار کا 20 فی صد بتائی جاتی ہے۔ ابراہیم رئیسی نہ صرف ہاشمی رفسنجانی کے کی جگہ مصالحتی کونسل کے چییرمین کے مضبوط امیدوار ہیں بلکہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ سپریم لیڈر کے بھی امیدوار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…