جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

’’ جیش محمد‘‘ چین کے ترجمان وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس ،وضاحت کردی

datetime 15  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بیجنگ (آئی این پی) چین نے تنظیم’’ جیش محمد ‘‘کے بارے میں اپنے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ چین جیش محمد کے بارے میں اقوام متحدہ میں پیش کی گئی قرارداد روکنے کے بارے میں اپنا موقف پہلے ہی واضح کر چکا ہے ، یہ بات چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے کہی ہے ۔یہاں ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھی پہلے ہی بھارت کی طرف سے جیش محمد کے بارے میں پیش کی گئی درخواست پر اپنے رائے کا اظہار کرچکے ہیں تا ہم جب ترجمان سے زور دے کر پوچھا گیا کہ پہلے کیا رائے دی جا چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی 1267کمیٹی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مینڈیٹ کے تحت کام کرتی ہے ، چین کا موقف ہے کہ 1267کمیٹی کو فہرست میں دیئے گئے معاملات پر طریقہ کار کے مطابق انصاف اور پیشہ وارانہ انداز میں نمٹنا چاہئے اور ٹھوس شہادتوں اور سکیورٹی کونسل کے درمیان اتفاق رائے کی بنیاد پر فیصلے کرنا چاہئیں۔جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ کئی فریق بھارت کی طرف سے دی گئی فہرست پر کئی افراد کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں ، اس لئے فنی بنیاد پر لسٹ کے بارے میں کمیٹی کو اس پر غور کرنے اور متعلقہ فریقین سے بات چیت کیلئے وقت درکار ہے ، اس سے یہ بخوبی واضح ہو تا ہے کہ چین اس معاملے پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل رکھتا ہے تا ہم ترجمان نے کہا کہ ایک اور سوال یہ ہے کہ ان کے ملک نے ایٹمی سپلائر گروپ(این ایس جی ) میں بھارتی شمولیت یا کسی بھی ایٹمی عدم پھیلا ؤ کے معاہدے (این پی ٹی ) میں شامل نہ ہونے والے ملک کے بارے میں اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ، چین اور بھارتی رہنماؤں کی ملاقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ صدر شی جن پنگ بھارتی وزیر اعظم اور دیگر برکس رہنماؤں سے گوا میں ملاقات کریں گے ، اس سلسلے میں ضروری انتظامات جاری ہیں اور وقت آنے پر انہیں منظر عام پر لایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں چین بھارت تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور دوطرفہ تعلقات مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں ، مقابلے اور اختلافات کے باوجود یہ تعلقات باہمی مفادات اور تعاون کے تحت فروغ پذیر ہیں ، ہمیں توقع ہے کہ فریقین اختلافی امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور ان مخصوص مسائل پر مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے مناسب انداز میں حل تلاش کریں گے جن امور پر دونوں ملکوں کے رہنما اتفاق کریں گے ان پر عملدرآمد کریں گے ، ہم بھارت کے ساتھ مل کر کام کریں گے تا کہ باہمی تعاون اور رابطوں میں اضافہ کیا جاسکے اور مذاکرات کے ذریعے باہمی اعتماد اور عملی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…