جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ملکہ برطانیہ کو بڑی خوشخبری مل گئی

datetime 29  جون‬‮  2016 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ میں ملکہ کی شاہی جاگیر یعنی کراؤن اسٹیٹ نے وزارت خزانہ کو ریکارڈ 30.41 کروڑ پاؤنڈ ادا کیے ہیں کیونکہ اس کا پورٹ فولیو 9.7 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 12 ارب پاؤنڈ کا ہو گیا ہے۔ملکہ کی شاہی جاگیر میں لندن کی ریجنٹ سٹریٹ اور پورے برطانیہ کی سمندر کی تہہ شامل ہے۔ کراؤن اسٹیٹ کی جانب سے دی جانے والی رقم 28.5 کروڑ پاؤنڈ سے بڑھ کر 30.41 کروڑ پاؤنڈ ہو گئی ہے۔یہ رقم سوورین گرانٹ سے قبل آئی ہے۔ سوورین گرانٹ وہ رقم ہے جو ٹیکس دہندگان ملکہ کے لیے وزارت خزانہ کو دیتے ہیں۔رواں سال ملکہ کو اس گرانٹ میں 4.3 کروڑ پاؤنڈ دیے گئے ہیں جو شاہی جاگیر کے منافعے کا 15 فیصد ہے۔سوورین گرانٹ دو سال بعد دی جاتی ہے اور اس پر ہر پانچ سال بعد نظر ثانی کی جاتی ہے۔آئندہ چند ماہ میں حکومت اور سینیئر شاہی اہلکار گرانٹ پر نظرثانی کریں گے۔ یہ گرانٹ 2012 میں 15 فیصد پر طے کی گئی تھی۔اگر اس بار گرانٹ میں تبدیلی نہیں کی گئی تو یہ گرانٹ 2012 سے 3.1 کروڑ پاؤنڈ سے بڑھ کر 4.5 کروڑ پاؤنڈ ہو جائے گی۔کراؤن اسٹیٹ کو ریجنٹ سٹریٹ اور سینٹ جیمز سٹریٹ پر احیا کے پروگرام کے فوائد حاصل ہوتے رہے ہیں۔سمندری تہہ کو آف شور پن بجلی کے منصوبوں کے لیے لیز پر دینے سے 2.29 کروڑ پاؤنڈ کمائے جو 20 فیصد کا اضافہ ہے۔سوورین گرانٹ کی سالانہ رپورٹ برائے 2016۔2015 کے مطابق وزارت خزانہ شاہی خاندان پر 4.01 کروڑ پاؤنڈ خرچ کرتی ہے جن میں سے 16 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ شاہی محلات اور دیگر عمارتوں کی دیکھ بھال پر خرچ کیے جاتے ہیں
40 لاکھ پاؤنڈ ملکہ اور شاہی خاندان کے سرکاری دوروں پر خرچ ہوتے ہیں جن میں دس لاکھ پاؤنڈ کی کمی واقع ہوئی ہیرپورٹ کی لانچ پر کیپر آف پریوی پرس سر ایلن ریڈ نے محلات اور دیگر عمارتوں کی دیکھ بھال کے لیے خرچ کی جانے والی اتنی زیادہ رقم بتائی۔انھوں نے بتایا کہ جائیداد کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے والی رقم پچھلے سال کے قابلے میں 40 فیصد ہے لیکن جائیداد کی حالت تیزی سے خستہ ہوتی جا رہی ہے۔سر ایلن ریڈ نے بتایا کہ اس سال دی جانے والی 4.28 کروڑ پاؤنڈ کی گرانٹ کا زیادہ حصہ ضروری مرمت پر خرچ کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…