جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

تمام امیدوں پر پانی پھر گیا، بھارت کی درخواست مسترد

datetime 26  جون‬‮  2016 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سینئر امریکی قانون دان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی جانب سے ہندوستان کی رکنیت کی درخواست کو مسترد کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوا کہا ہے کہ اس فیصلے سے این ایس جی نے جوہری عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں کو دوام بخشا۔تاہم اوباما انتظامیہ میں شامل ایک سینئر عہدے دار نے واشنگٹن میں ہندوستانی صحافی کو اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ اس سال کے آخر تک ہندوستان این ایس جی کا رکن بن جائے گا۔ واضح رہے کہ این ایس جی کا حال ہی میں سیؤل میں سالانہ اجلاس ہوا تھا جس کے ایجنڈے میں ہندوستان اور پاکستان کی رکنیت کی درخواستوں پر غور کرنا بھی تھا، اجلاس جمعے کو ختم ہوا اور دونوں ملکوں کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر ایڈ مارکی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی درخواست منظور نہ کرکے این ایس جی نے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔ این ایس جی کی گائیڈ لائنز کے مطابق رکن ملک کیلئے ضروری ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرے جبکہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ہی نے اس پر دستخط نہیں کیے۔سینیٹر مارکی نے مزید کہا کہ این ایس جی کا قیام 1974 میں ہندوستان کی جانب سے کیے جانے والے ایٹمی تجربات کے ردعمل کے طور پر عمل میں آیا تھا، اور اس گروپ نے دہائیوں تک جوہری ٹیکنالوجی کو منتقل ہونے سے روکنے کیلئے کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان این ایس جی کا رکن بن گیا تو وہ واحد رکن ہوگا جس نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے اور ایسا ہونے سے این پی ٹی کے حوالے سے این ایس جی کی ذمہ داریاں کمزور پڑ جائیں گی۔گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی برائے امریکا ہندوستان تعلقات کے اجلاس میں بھی مارکی نے خبردار کیا تھا کہ این پی ٹی پر دستخط کے بغیر ہندوستان کی این ایس جی میں شمولیت سے جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ہندوستان کی رکنیت کیلئے ماحول سازی کرنے پر اوباما انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا یا ۔این ایس جی کی جانب سے درخواست منظور ہونے کے بعد ایک سینئر امریکی عہدے دار نے ہندوستانی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ این ایس جی میں ہندوستان کی شمولیت کے تمام دروازے بند نہیں ہوئے۔عہدے دار نے کہا کہ ہمیں یقین ہے ہندوستان سال کے آخر تک گروپ کا حصہ بن جائے گا، اس کیلئے کچھ کام کرنا پڑے گا تاہم مجھے یقین ہے کہ سال کے آخر تک کوئی راہ نکل آئے گی۔امریکی عہدے دار نے سیؤل میں این ایس جی کے اجلاس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے اس معاملے پر ہندوستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور مہینوں کی مشاورت کے بعد ہندوستان کو میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم میں شامل کرنے کا معاملہ بھی ترجیحات میں شامل کرلیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…