پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملا اختر منصور پر ڈورن حملہ،عالمی گروپ نے بھی پاکستان کے موقف کی حمایت کردی

datetime 22  جون‬‮  2016 |

واشنگٹن (این این آئی) عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لئے کام کرنے والے گروپ پگ واش نے کہاہے کہ پاکستان میں ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ اور ان کی ہلاکت نے عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لئے کام کرنے والے گروپ پگ واش کی قیام امن کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔امریکی جریدے میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پگواش کانفرنس آن سائنس اینڈ ورلڈ افیئرزدوحہ میں طالبان کے نمائندوں کے ساتھ قیام امن کی کو ششوں کے لئے مصروف عمل تھی کہ ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ کیا گیا اور اس کے نتیجہ میں ان کی جگہ سخت گیر خیالات رکھنے والے طالبان لیڈر کی تقرری ہوئی جس نے حکومتوں کے خلاف حملے بڑھانے کی دھمکیاں دیں ۔پگواش کے سیکرٹری جنرل پاؤلو کوٹا راموسینو نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات سے باہر کرنے کے بجائے ان کو بات چیت میں مشغول رکھنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کو یقین ہے کہ ڈرون حملے کے بعد امن مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔امریکی اخبارکی رپورٹ میں طالبان کے ایک رابطہ کار جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کے حوالے سے کہا کہ بدقسمتی سے اس ڈرون حملے نے فضا کو بہت کشیدہ کر دیا ہے اور اعتماد کی فضا کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے.یاد رہے کہ مئی میں قطر میں ہونے والے مذاکرات افغان حکومت کے نمائندوں کے بغیر ہوئے تھے جس میں وال سٹریٹ جنرل کو بھی پگواش نے بطور آبزرور مدعو کیا تھا،اس اجلاس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کو امن کے لئے ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر لے آیا جائے گا،بعد میں پگواش نے افغان حکومت پر ان مذاکرات میں باضابطہ سرکاری سطح پر شامل ہونے کا دباؤ ڈالے بغیر ان کو جنگ بندی کے لئے ایک موقع کہہ کر مذاکرات شامل ہونے کی دعوت بھی دے دی تھی۔وال سٹریٹ جنرل کے مطابق پگواش نے کئی مہینے لگا کر افغان قبائیلی رہنماؤں،وارلارڈز اور سفارتکاروں کی مشاورت سے افغانستان میں قیام امن کے لئے ایک دستاویز مرتب کی تھی جس کے تحت وہاں سے امریکی فوج کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل،طالبان کے نمائندوں کے ساتھ قائم مقام افغان حکومت کا قیام،اور انتخابات جس میں طالبان حصہ دار ہو نگے کا روڈ میپ واضح کیا تھا۔یاد رہے کہ ’’پگواش‘‘ امن کی کوششیں کرنے والی ایک نوبل انعام یافتہ تنظیم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…