منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ہم فوجی عدالتوں کے قیام کے گناہ کے لیے تیار ہوگئے تھے لیکن حکومت نے غیر سنجیدگی دکھائی،فضل الرحمان

datetime 6  جنوری‬‮  2015 |

اسلام ا باد۔۔۔۔جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے 21ویں ا ئینی ترمیم اورآ رمی ایکٹ ترمیمی بل پر اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم ہم فوجی عدالتوں کے قیام کے گناہ کے لیے تیار ہوگئے تھے لیکن حکومت نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم ترامیم پر مذاکرات کے لئے حاضر ہوئی لیکن مذاکرات کے دوران ہی قومی اسمبلی میں بل پیش کردیا گیا جو کہ حکومتی غیرسنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے جب کہ ہم نے تجویز دی تھی کہ فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کا بھی کردار ہونا چاہئے لیکن ہماری جانب سے دی گئی کوئی بھی تجویز بل میں شامل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کو مذہبی اکائیوں کے خلاف کیوں استعمال کیا جارہا ہے، ا ج پھر دہشتگردی اور مذہب کو جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس موڑ پر کھڑے ہوگئے ہیں کہ ملک کو سیکیولر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک بنگلادیش نہیں اور نہ ہی حسینہ واجد کی حکومت ہے کہ پاکستان کو سیکیولر ملک بنا دیا جائے۔سربراہ جے یو ا ئی (ف) نے کہا کہ ا ئین میں ترمیم کے اس لب و لہجے سے قوم تقسیم ہوجائے گی، تمام مکاتب فکر، مذہبی و سیاسی جماعتیں اور تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد دہشت گردی کے خلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہیں، دہشت گردی ایک ہی قسم کی ہوتی ہے اور دہشت گردی مذہبی و غیر مذہبی میں تقسیم نہیں ہوتی، دہشت گردی کو جرم قرار دے دیا جائے اور سب یکجا ہوکر اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ 21 ویں ترمیم پر مشاورت کے لئے تمام مکاتب کے لوگوں کو بلائیں گے اور قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے بل پر مشاورت کے بعد جامع ردعمل دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…