منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو چپ چاپ بغیر کسی معاوضے کے آپکو طاعون سے بچا رہا ہے۔ مگر کیسے؟

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

پشاور: خیبر پختون خوا کے ایک شہری نے  طاعون جیسے مرض کا خاتمہ کرنے کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت مہم شروع کر رکھی ہے۔

صوبہ خیبر پختون خوا کو عام طور پر دنیا بھر میں دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے لیکن اس صوبے کا ایک شہری ایسا بھی ہے جس نے ان تمام تر حالات کے باوجود طاعون جیسے موذی مرض کے خلاف مہم  شروع کر رکھی ہے۔ پشاور کے علاقے زریاب کے رہائشی  نصیر احمد کا کہنا تھا کہ چوہے مرغیوں اور دیگر پرندوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ  معاشرے میں بیماریاں پھیلانے کا بھی باعث بنتے ہیں اوران کا خاتمہ اس کا مشن ہے جب کہ  یہ فیصلہ اس وقت کیا جب میرے ایک دوست نے بتایا کہ چوہے کے کاٹنے کے باعث اس کی بیوی اسپتال میں داخل ہے جس کے علاج پر ہزاروں روپے خرچ ہوگئے۔

نصیر احمد کا کہنا ہے کہ شہر میں پائے جانے والے زیادہ تر چوہوں کی لمبائی 22 سے 30 سینٹی میٹر تک ہے جو گلیوں، مارکیٹوں، دکانوں اور گھروں میں پائے جاتے ہیں حالانکہ میرے پاس اس مشن کو پورا کرنے کے لئے سہولیات کم ہیں لیکن میں اسے جاری رکھے ہوئے ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ رات کو چوہا مار مہم پر نکلتا ہے  اس دوران گلیوں ، گھروں اور دکانوں پر  ڈبل روٹی کے ٹکڑے رکھ دیتا ہے جس پر چوہا مار دوا لگا ہوتی ہے، چوہوں پر عام زہر اثر نہیں کرتا اس لئے میں نے انہیں مارنے کے لئے اپنا فارمولا تیار کیا ہے۔

چوہا مار مہم میں نصیر احمد کا ساتھ دینے والے گل زادہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس چوہے کے کاٹنے کے باعث اس کے بھتیجے کی موت واقع ہو گئی تھی جب کہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ چوہوں کے خلاف ہر کسی نے اپنی جانب سے انتظامات کر رکھے ہیں لیکن نصیر احمد ایک ماہر کی طرح چوہوں پر حملہ کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…