اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارت: نوجوان نے وزیر اعلیٰ کو جوتا دے مارا، ایسا کیوں کیا؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

پٹنہ: اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ  جوتا مارنے کی رسم  پرانی ہوگئی ہے تو اسے جان لینا چاہئے کہ یہ رسم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سیاستدان عوام کی صحیح معنوں میں خدمت نہیں کرتے اسی لئے بھارت کی ریاست بہار میں ناراض نوجوان نے وزیراعلیٰ کو جوتا دے مارا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بہار کے وزیر اعلیٰ جیتان رام مانجھی نے دارالحکومت پٹنہ میں معمول کے مطابق اپنی سالانہ جنتا دربار سجا رکھی تھی جس میں وہ  عوام کی شکایتں سنتے اور پھر انہیں حل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ اسی دوران ایک نوجوان بھی اس دربارمیں شریک ہو گیا اور جب وزیر اعلی لوگوں کی شکایتیں سننے میں مصروف تھے تو یہ نوجوان اٹھا اور اپنا جوتا وزیر اعلیٰ جیتان رام مانجھی کو دے مارا لیکن وزیر اعلیٰ نے کمال مہارت سے خود کو جوتے سے بچا لیا۔

دوسری جانب پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جوتا مارنے والے نوجوان کو دبوچ لیا اورجب  اسے گھسیٹتے ہوئے تھانے لے جانے لگی تو نوجوان نے چیختے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ جیتان رام گزشتہ دو سال سے جنتا دربار لگا رہے ہیں لیکن یہ صرف  عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ سیاستدان غریب عوام کے  ساتھ سیاست کھیل رہے ہیں اور ان علاقوں کی ترقی کے لئے اب تک کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ صرف زبانی دعوے کئے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…