منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی کمپنی نے بیئر کے کین پر گاندھی کی تصویر کیوں شائع کی ،پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

حیدرآباد۔۔۔۔ ایک امریکی کمپنی نے اپنی بیئر کے کین اور بوتلوں پر بھارت کے ’بابائے قوم‘ مہاتما گاندھی کی تصویر شائع کی ہے جس پر تنازعے کے بعد کمپنی نے معافی مانگ لی ہے۔کمپنی نے حیدرآباد کی ایک عدالت میں اس کے خلاف دائر کی جانے والی ایک درخواست کے بعد معافی مانگی ہے۔عدالت میں داخل کی جانے والی درخواست میں کمپنی پر مہاتما گاندھی کی ’توہین‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔تاہم کنیکٹیکٹ میں واقع نیو انگلینڈ بروئنگ نامی اس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے مہاتما گاندھی کے ساتھ عقیدت اور احترام کے جذبے کا اظہار کرنا چاہتے تھے نہ کہ ان کی توہین۔کمپنی کا کہنا ہے کہ موہن داس کرمچند گاندھی کی تصویر کی اشاعت کے لیے اس نے مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے اور پڑپوتیوں سے بات بھی کی تھی، جنھوں نے کین اور بوتل پر لیبل کی تعریف کی تھی۔عرضی داخل کرنے والے کا کہنا ہے کہ بیئر کے کین پر گاندھی کی تصویر اور ان کی تفصیل، بھارتی قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے
اس بیئر برانڈ کا نام ’گاندھی باٹ‘ ہے۔ نیو انگلینڈ کمپنی کے مطابق گاندھی باٹ میں امریکی ہوپس کی تین اقسام کی بیئر کا مرکب ہے۔حیدرآباد کے وکیل سنہارہ جناردن نے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ، سائبرآباد کے سامنے داخل کی جانے والی درخواست میں کہا تھا کہ بیئر کے کین پر گاندھی کی تصویر اور ان کی تفصیل، بھارتی قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے۔پٹیشن کے مطابق یہ جرم ’پرکنونشن آف انسلٹس ٹو نیشنل آنر ایکٹ، 1971‘ اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی ’دفعہ 124۔اے‘ (اشتعال انگیز الفاظ، پیغام یا تصویر کا استعمال) کے تحت آتا ہے۔دوسری جانب کمپنی کے معاونن میٹ ویسٹ فال کا کہنا ہے: ’ہمارا مقصد کسی کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا لیکن اگر اس سے بھارتی باشندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو اس کے لیے ہم معافی چاہتے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…