منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ہندوستان میں ہوا جاپانی لڑکی کے ساتھ ایسا کچھ کہ انسانیت کا بھی جھک جائے سر۔ اب بھارتی میڈیا کہاں ہے؟

datetime 4  جنوری‬‮  2015 |

کلکتہ : جاپانی لڑکی کو ایک ماہ تک ’’گینگ ریپ‘‘ کا نشانہ بنانے والے 5 ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

مشرقی کلکتہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ جاپان کی طالبہ کو 23 نومبر کے بعد سے دو مختلف مقامات پر رکھا گیا جہاں اس کا ریپ جاتا رہا۔

پولیس کے مطابق یہ منظم گروہ ہندوستان آنے والی غیر ملکی خواتین کو نشانہ بناتا ہے جبکہ اس کا ہدف تنہا ہندوستان آنے والی خواتین ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں ریپ کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اس حوالے سے سخت قوانین کی موجودگی بھی ریپ کے واقعات کو کم نہیں کر سکی ہے۔

کلکتہ پولیس کے کمشنر پایلو کانتی گوش کا کہنا تھا کہ 23 سالہ طالبہ کو کلکتہ آمد پر 2 بھائیوں نے خدمات کی پیشکش کی، ان میں سے ایک جاپانی روانی سے بولتا ہے۔

گوش کے مطابق ان گائیڈ بھائیوں نے اس طالبہ کو مختلف مقامات دکھانے کا معاملہ طے کیا تھا۔

پولیس افسر نے کہا کہ جاپانی طالبہ کو یہ دونوں بھائی 23 نومبر کو مغربی بنگال لے گئےاور وہاں اس کا ریپ کیا جبکہ اس کے اے ٹی ایم کارڈ سے 76 ہزار روپے بھی نکلوا لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد طالبہ کو بدھ مت کے ماننے والوں کی مشہور جگہ بدھ گایا لے جایا گیا اور اس کو ایک اور تین رکنی گینگ کے حوالے کر دیا، جس نے اس لڑکی کئی ہفتوں تک اپنے پاس رکھ کر ریپ کیا۔

کمشنر کلکتہ نے بتایا کہ دسمبر کے آخر میں طالبہ نے ان افراد سے فرار ہو کر ورانسی میں جاپانی قونصلیٹ سے رابطہ کیا، جہاں 26 دسمبر 2014 کو اس حوالے سے شکایت کا اندراج کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکی سے زیادتی کرنے والے تین افراد کو بدھا گایا اور دو کلکتہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے جن تک رسائی ان کے موبائل فون نمبرز کے ذریعے حاصل کی گئی۔

واضح رہے کہ اس قبل ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں غیر ملک خواتین کا ریپ کیا جا چکا ہے جن میں سوئس سائیکلسٹ اور ڈنمارک کی خاتون بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ دو سال قبل دہلی میں ایک لڑکی کو گینگ ریپ کرکے چلتی ہوئی بس سے پھینک دیا گیا تھا جس کے بعد سے ہندوستان میں ریپ کے واقعات کے حقائق سامنے آنا شروع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…